چین نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اس نے کبھی امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کی اور اسے ایسا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں بیجنگ پر مداخلت کا الزام لگایا جس کے بعد چین نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ "بے بنیاد الزامات" لگانا بند کرے۔
جمعرات کو قوم سے خطاب میں ٹرمپ نے 2020 میں امریکی انتخابات کے نتائج پر دوبارہ شکوک کا اظہار کیا اور چین پر ان میں مداخلت کا الزام لگایا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے کہا، "امریکہ کے متعلقہ الزامات مکمل طور پر غلط ہیں اور ان کا مقصد چین کو بدنام کرنا ہے۔ ہمیں امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کبھی کیا ہے۔"
بیجنگ میں روزانہ کی بریفنگ میں لِن نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا بند کرے۔
کیا یہ بات ستمبر میں چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع دورۂ امریکہ پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اس سوال کے جواب میں ترجمان نے جواب دیا: "جیسا کہ میں نے ابھی کہا، ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے انتخابات میں چین کو مسئلہ بنانا بند کرے اور چین-امریکہ تعلقات کے لیے کوئی سازگار عمل کرے۔"
ٹرمپ نے مئی کے وسط میں بیجنگ کا دورہ اور شی سے ملاقات کی تھی اور دونوں حکومتوں نے کہا کہ وہ دوطرفہ تعلقات کو منظم کرنے کے لیے ایک نیا فریم ورک اپنائیں گے۔ ٹرمپ نے شی کو ستمبر میں دورۂ امریکہ کی دعوت دی اور بیجنگ نے تصدیق کی کہ شی نے دعوت قبول کر لی تھی۔