سوڈان کے سونے پر یورپی پابندیاں، مقصد جنگ کی فنڈنگ ختم کرنا
سونا سوڈان میں اب بھی غیر ملکی کرنسی فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیاں برقرار رکھنے والے اہم ستون
سوڈانی سونا یورپی پابندیوں کے مرکز میں آ گیا ہے۔ سوڈان کا سونا تنازع کی فنڈنگ کے ذرائع کو خشک کرنے کی کوششوں کے نمایاں ترین اہداف میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس یورپی یقین کے ساتھ کہ قیمتی دھات کی تجارت جنگ کو ایندھن دینے والے مالی وسائل میں سے ایک کی نمائندگی کرتی ہے۔
س صورت حال نے اس اقدام کی تنازع سے وابستہ فنڈنگ کے ذرائع کو کاٹنے میں تاثیر کے حوالے سے سوالات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے سوڈان سے سونے کی درآمد پر اور وہاں مرکری اور سائینائیڈ کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ سونے کی کان کنی میں استعمال ہونے والے دو مواد ہیں جس سے سوڈان کی دیگر ملکوں کے ذریعے یورپی یونین میں سونا داخل کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ یہ اقدام برسلز کی ان صنعتوں کو روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے جو سوڈان میں 2023 سے جاری خانہ جنگی کو بھڑکا سکتی ہیں۔
اسی ڈگر پر چلتے ہوئے برطانیہ نے پابندیوں کا ایک نیا پیکیج اختیار کیا ہے جس میں سوڈان میں سونے کی تجارت اور غیر قانونی فنڈنگ کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک ایسے اقدام میں جس کے بارے میں اس نے کہا کہ اس کا مقصد جنگ کے فنڈنگ کے ذرائع کو خشک کرنا اور تنازع کی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔
بقا کی جنگ لڑتا ہوا شعبہ
سوڈان میں سونے کو معیشت کے ان چند ستونوں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اب بھی غیر ملکی کرنسی فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کے پہیے کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ اس الزام کا مرکز بھی بن چکا ہے کہ یہ ان نمایاں ترین مالی وسائل میں سے ایک ہے جس سے تنازع کے فریقین جنگ کی فنڈنگ میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار اس انحصار کی حد کو ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ وزارت معدنیات سے وابستہ سوڈانی کمپنی برائے معدنی وسائل نے سال 2025 کے دوران 70.15 ٹن کی ریکارڈ پیداوار حاصل کرنے کا اعلان کیا جو ہدف سے 113 فیصد زیادہ ہے۔ سب سے بڑا حصہ روایتی کان کنی سے آیا جس کی پیداوار 58.376 ٹن رہی۔ تاہم مقامی اندازوں کے مطابق کل حقیقی پیداوار کا 70 فیصد سے 80 فیصد کے درمیان ملک سے باہر سمگل کر دیا جاتا ہے س کی وجہ سے سالانہ اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔
سمگلنگ کے راستے
سونے کے برآمد کنندگان کی ایسوسی ایشن کے سربراہ عبد المنعم الصدیق یہ توقع نہیں کرتے کہ پابندیاں بغیر کسی قیمت کے گزر جائیں گی۔ انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارے اور سائینائیڈ کے حصول میں دشواری کے نتیجے میں قیمتوں کا بڑھنا تقریباً طے شدہ ہو چکا ہے۔ یہ معاملہ پیداواری لاگت کو بڑھا دے گا اور مارکیٹوں میں رسد کو کم کر دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مواد غائب نہیں ہوں گے بلکہ وہ سرکاری تجارتی ذرائع سے سمگلنگ کے راستوں پر منتقل ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ لاگت میں اضافہ اور بلیک مارکیٹ کی سرگرمیوں میں وسعت آئے گی۔
عبد المنعم الصدیق نے متنبہ کیا کہ باقاعدہ تجارت پر پابندیاں سمگلنگ نیٹ ورکس کو نقل و حرکت کے لیے وسیع تر جگہ دے سکتی ہیں اور شاید یہ انہیں پابندیوں کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا بنا دیں۔ لیکن معاشی محقق ڈاکٹر ہیثم محمد فتحی اس منظر نامے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ پابندیاں ریپڈ سپورٹ فورسز سے زیادہ سوڈانی حکومت کو نشانہ بناتی ہیں جو ان کے تخمینے کے مطابق سونا برآمد کرنے کے لیے سمگلنگ نیٹ ورکس پر انحصار کرتی ہیں جس سے اس کے فنڈنگ کے ذرائع پر فیصلے کا اثر محدود ہو جاتا ہے۔
انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ " سے اپنی گفتگو میں کہا کہ بہت سی دیگر اشیاء کے برعکس سونے کے عالمی منڈیوں میں داخل ہونے کے بعد اس کے ماخذ کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اسے سونے کی بین الاقوامی تجارتی مراکز میں دوبارہ پگھلا کر نئی شکل دی جا سکتی ہے۔ پھر بین الاقوامی معیارات کے مطابق بسکٹ کے طور پر دوبارہ برآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کے نکالنے والے ملک کی شناخت موجود نہیں ہوتی۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ یورپی فیصلہ سوڈانی ماخذ کے سونے پر پابندی لگاتا ہے لیکن یہ عملی طور پر دیگر ملکوں میں دوبارہ پگھلائے جانے کے بعد یورپی مارکیٹوں میں اس کے دوبارہ داخلے کو نہیں روکتا۔ یہ صورت حال پابندیوں کی تاثیر کو محدود کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان براہ راست یورپی یونین کو سونا برآمد نہیں کرتا اور یہ فیصلہ یونین سے باہر کے ممالک کو پابند نہیں کرتا جس سے اس کا براہ راست معاشی اثر محدود ہو جاتا ہے۔۔ انہوں نے کہا جب تک اس میں وہ اہم بین الاقوامی مارکیٹیں شامل نہ ہوں جو سوڈانی سونا وصول کرتی ہیں اس اقدام کی تاثیر محدود رہے گی۔
گوند کیوں نہیں؟
اس کے علاوہ فتحی ایک اور سوال اٹھاتے ہیں جو صمغ عربی یعنی گوند کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھنے سے متعلق ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یورپی یونین نے سونے کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ یہ ایک ایسے مالی وسائل کی نمائندگی کرتا ہے جسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف صمغ عربی سے یورپی اور عالمی صنعتوں کے لیے اس کی تزویراتی اہمیت اور اس کے متبادل تلاش کرنے میں دشواری کی وجہ سے گریز کیا گیا، نہ کہ انسانی ہمدردی کے تحفظات کی وجہ سے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ استثنیٰ پابندیوں کے نظام میں خامیاں چھوڑ سکتا ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے سول حلقوں اور یورپی پارلیمنٹ کے اندر بڑھتی ہوئی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ یورپی پابندیوں کے متوازی طور پر سوڈان میں وزارت معدنیات نے سونے کی سمگلنگ میں ملوث ثابت ہونے والے ہر شخص کے خلاف سخت اقدامات کرنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے وزیر معدنیات نور الدائم طہ نے کہا کہ سونے کی رجسٹریشن کے فارم اب مکمل طور پر مفت ہو چکے ہیں اور ریاست نے پروڈیوسرز کے سامنے سے تمام طریقہ کار کی رکاوٹیں ہٹا دی ہیں اور اب قانونی دائرہ کار سے باہر اور سرکاری دستاویزات کے بغیر سونا رکھنے، منتقل کرنے یا اس کی تجارت کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ سونے کی سمگلنگ قومی وسائل کا براہ راست زیاں ہے اور یہ پروڈیوسرز اور قومی معیشت کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھیتصدیق کی کہ ریاست قانون کی پاسداری کرنے والوں کو مراعات دینا جاری رکھے گی اور اس کے مقابلے میں متعلقہ عدالتی اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ہر اس شخص کے خلاف سخت اقدامات کرے گی جس کا سونے کی سمگلنگ، اسے رکھنے، منتقل کرنے یا غیر قانونی طریقے سے اس کی تجارت کرنے میں ملوث ہونا ثابت ہو جائے گا۔