ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا:رپورٹس میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے لیے تیار ہے۔ ان حملوں میں صرف میزائل اور ڈرونز ہی نہیں بلکہ خطے میں موجود ایران کے اتحادی گروہوں کو بھی فعال کیے جانے کا خدشہ ہے۔

اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل کے اندر اور بیرونِ ملک ہائی الرٹ کی صورتحال ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی ہے۔

اسرائیلی رپورٹس کے مطابق تل ابیب نے واشنگٹن کو امریکی حملوں میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کو مسترد کر دیا۔

اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ جنگ میں اسرائیل کی شمولیت کا انحصار ایران کے ردعمل پر ہوگا۔ اگر ایران اسرائیل کو نشانہ بناتا ہے تو امکان ہے کہ اسرائیل جنگ میں مداخلت کرے گا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے اتوار کی صبح ایران کے خلاف نئے فضائی حملے کیے۔ یہ حملے اردن میں امریکی فوجیوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کیے گئے، جن میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملے تہران کے ساتھ دوبارہ کشیدگی شروع ہونے کے بعد پہلی بار کیے گئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اردن میں امریکی اہلکاروں پر حملوں کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب کو فوری سزا دینا تھا۔

سینٹ کام نے مزید بتایا کہ ایران پر حملوں کی آٹھویں مسلسل لہر مکمل ہو چکی ہے، جس میں ایرانی ساحلی نگرانی کے مراکز اور فوجی فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے ہفتے کے روز خلیجی ممالک اور اردن پر مزید حملے کیے، جبکہ ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری پیغام میں امریکہ کو ناقابلِ فراموش سبق سکھانے کی دھمکی دی۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کو ''بے وقعت اور بے اثرقرار دیا۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی میزائل حملوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور انہیں شبہ ہے کہ چین اور روس تہران کو ممکنہ مدد فراہم کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا عارضی معاہدہ 7 جولائی کو اس وقت ختم ہو گیا ،جب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے۔

اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ پابندیوں اور بحری دباؤ کا سلسلہ شروع کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں