2010 ورلڈ کپ کے ہیرو کی امریکہ داخلے پر پابندی ختم کرنے کی فریاد
’’ مجھے مدد کی ضرورت ہے ڈونلڈ ٹرمپ ‘‘ ہسپانیہ کے سابق فٹ بال سٹار کاپدیویلا کی ایکس پوسٹ
ہسپانوی فٹ بال ٹیم کے سابق کھلاڑی اور 2010 کا ورلڈ کپ جیتنے والے خوان کاپدیویلا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مدد مانگی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں اپنے ملک اور ارجنٹائن کے درمیان ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے کے لیے امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
کاپدیویلا نے نیوجرسی کی ریاست میں ایسٹ ردرفورڈ میں اتوار کو کھیلے جانے والے فائنل میچ سے قبل پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے، ڈونلڈ ٹرمپ۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ابھی بتایا گیا ہے کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ فائنل دیکھنے کے لیے سفر نہیں کر سکتا کیونکہ الیکٹرانک سفری اجازت نامے کی میری درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کوئی اس معاملے میں میری مدد کر سکتا ہے؟ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ میں 2010 کی ٹیم کے اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ وہاں موجود ہونے اور اس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کتنا پرجوش ہوں۔
انہوں نے بات مکمل کی کہ میں یقین نہیں کر پا رہا کہ وہ مجھے امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے اور میں اپنے بچوں کے ساتھ ایسے لمحے سے محروم ہو جاؤں گا جو فٹ بال سے اتنی محبت کرتے ہیں۔ کاپدیویلا نے اپنی پوسٹ میں ہسپانوی وزارتِ کھیل کو ٹیگ کیا اور بعد میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایک پیغام بھیجا جس میں کہا کہ اگر کوئی اس مسئلے کو حل کرنے کا طریقہ جانتا ہے تو میں زندگی بھر اس کا شکر گزار رہوں گا۔
الیکٹرانک سفری اجازت نامے کا نظام کچھ ملکوں کے شہریوں کے لیے ویزا کے بغیر امریکہ میں داخل ہونے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ دفاعی کھلاڑی کاپدیویلا ہسپانوی ٹیم کے ان تین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے جنوبی افریقہ میں 2010 کے ورلڈ کپ کے تمام میچوں کے ہر منٹ میں کھیل پیش کیا تھا اور انہوں نے تاریخ میں پہلی بار اپنے ملک کو عالمی ٹائٹل جتوانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔