.

سی آئی اے نے انور العولقی تک پہنچنے کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالرز اڑائے

القاعدہ لیڈر کا سراغ لگانے کے لیے''یورپی دلھن'' کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ڈنمارک کے ایک سابق بائیکر اور نو مسلم مورٹن اسٹارم نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے یمن میں القاعدہ کے لیڈر انور العولقی تک پہنچنے کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کی تھی اور منصوبے کے تحت اس رقم میں سے ان کے لیے ایک یورپی دلھن کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مسٹر مورٹن اسٹارم نے انور العولقی کے لیے میچ میکر کا کردار ادا کیا تھا اور ان کے لیے کروشیا کے شہر زغریب سے تعلق رکھنے والی نو مسلمہ آمنہ کا دلھن کے طور پر انتخاب کیا تھا۔

مورٹن اسٹارم نے ڈینش اخبار ژولاند پوستن کو بھی سی آئی اے سے ڈالرز وصول کرنے اور القاعدہ کے مقتول لیڈر سے اپنی برقی مراسلت کی تفصیل بتائی ہے۔ انھوں نے اخبار کو ٹیکسٹ پیغامات، ڈالر بلوں اور سفری رسیدوں سے بھرے ایک سوٹ کیس کی تصویر فراہم کی ہے۔

یمنی نژاد امریکی شہری انور العولقی کو القاعدہ کا سرکردہ پروپیگنڈا مشیر سمجھا جاتا تھا۔ وہ ستمبر 2011ء میں یمن میں امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ امریکا نے ان پر متعدد بڑے حملوں کی سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

مسٹر اسٹارم نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے اور ڈنمارک کی انٹیلی جنس سروس پی ای ٹی انور العولقی کی تلاش اور انھیں ہلاک کرنے کی کارروائی میں بتیس سالہ نو مسلمہ آمنہ کی زندگی قربان کے لیے تیار تھیں۔

تاہم ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے لیڈر کو ان کی نئی اہلیہ کے ذریعے ہلاک کرنے کی اسکیم ناکام رہی تھی۔ اس اخبار کے مطابق آمنہ اس وقت یمن ہی میں رہ رہی ہیں اور وہ مبینہ طور پر جہادیوں کے ایک جریدے ''انسپائر'' کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی مقتول انور العولقی سے 2009ء میں شادی ہوئی تھی اور وہ ان کی تیسری بیوی تھیں۔