.

شام میں خونریزی روکی جائے،نیا بوسنیا نہ بننے دیا جائےنیوی پلے

معرۃ النعمان میں شامی فوج کی بمباری ،44 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مس نیوی پلے کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی بوسنیا کی طرح کی فرقہ وارانہ جنگ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے،انھوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں جاری خونریزی روکنے کے لیے اتحاد کا مظاہرہ کریں جبکہ صدر بشارالاسد کی فوج نے شمالی صوبہ ادلب کے شہر معرۃ النعمان میں باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔

مس نیوی پلے نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''بوسنیا اور ہرزی گوینا میں جو کچھ رونما ہوا،اس کی یادیں ہمیں خبردار کرنے کے لیے تازہ ہونی چاہئیں اور ہمیں شام میں جاری خانہ جنگی کو مکمل فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''دنیا کو جھنجھوڑنے کے لیے سربرنیکا جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہیں ہونا چاہیے کہ جس کے بعد تنازعے کے خاتمے کے لیے دنیا سنجیدہ اقدام کے لیے بیدار ہو''۔یاد رہے کہ جولائی 1995ء میں بوسنیاکی جنگ کے دوران سربرنیکا کے قصبے میں خونریزی کا بدترین واقعہ پیش آیا تھا اور سرب فوج نے آٹھ ہزار سے زیادہ مسلمان مردوں اور لڑکوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔اس واقعہ کے بعد پوری دنیا سرب فوج کے سفاکانہ مظالم کے خلاف چیخ اٹھی تھی۔

مس نیوی پلے کا کہنا تھا کہ ''شامی تنازعے کے دونوں فریقوں نے ممکنہ طور پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔شام کی سرکاری فوج کی جانب سے حلب اور حمص میں شہری آبادی کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال ناقابل معافی ہے۔اسی طرح باغی جنگجوؤں کی جانب سے سرکاری فوج کے خلاف بموں کا استعمال بھی ناقابل معافی ہے''۔

درایں اثناء شام کی سرکاری فوج نے باغیوں کے زیر قبضے شہر معرۃ النعمان پر شدید گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں چوالیس شہری مارے گئے ہیں۔ایک رضاکار نے بتایا ہے کہ فضائیہ کی بمباری سے شہر میں دورہائشی عمارتیں تباہ اور ایک مسجد شہید ہوگئی ہے۔

قصبے کے ایک مکین نے بتایا ہے کہ سرکاری فوج کی بمباری میں شہید ہونے والی مسجد میں قریبی قصبے کفرنبل سے واپس آنے والے افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔وہ اس خیال سے معرۃ النعمان میں اب صورت حال بہتر ہوگئی ہے لیکن وہ اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری میں مارے گئے ہیں۔

باغی جنگجوؤں نے معرۃ النعمان کے نزدیک واقع وادی ضیف میں ایک فوجی اڈے پر بم برسائے ہیں۔باغیوں نے گذشتہ ہفتے معرۃ النعمان کے بیشتر حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور انھوں نے وادی ضیف کا ایک ہفتے سے محاصرہ کررکھا ہے۔

ادھر دارالحکومت دمشق میں موٹرسائیکل پر سوار بمبار نے وزارت داخلہ کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ فوری طور بم دھماکے میں ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق خودکش بم دھماکا دمشق کے جنوب مغربی علاقے کفرسوسہ میں ہوا ہے۔وہاں سکیورٹی سروسز کی متعدد شاخوں کے دفاتر قائم ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ مسلح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے جمعرات کو علی الصباح دیرالزور اور بالمائرا کے درمیان بچھائی گئی گیس پائپ لائن اورعمر اور تیم کنوؤں کے درمیان تیل کی پائپ لائن کو دھماکوں سے اڑا دیا جس سے ان میں آگ لگ گئی۔شام کی وزارت پٹرولیم کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر کنوؤں سے تیل نکالنے کا کام بند ہوگیا ہے۔البتہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔