.

شام سرحدی گذرگاہ پر کنٹرول کے لیے لڑائی، 16 فوجی، 10 باغی ہلاک

ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر نے صوبہ حسکہ میں ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع بارڈر کراسنگ راس العین پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے اور لڑائی میں چھبیس افراد مارے گئے ہیں جبکہ سرحد کی جانب مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے راس العین میں جھڑپوں میں سولہ فوجی اور دس باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔دوسری جانب ترک میڈیا نے بتایا کہ شامی علاقے کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے ترکی کے علاقے میں دو شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

قبل ازیں العربیہ ٹی وی نے جمعرات کو علی الصباح جیش الحر کے سرحدی گذرگاہ پر قبضے کی اطلاع دی تھی۔ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کے شمالی صوبوں ادلب اور حلب کے مختلف شہروں اور قصبوں میں جیش الحر نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران قبضہ کر لیا ہے اور شامی فوج ان کا کنٹرول ختم کرنے کے لیے فضائی حملے کررہی ہے جس کے بعد وہاں سے لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کرکے سرحد پار یا پھر اندرون ملک ہی محفوظ مقامات کی جانب جارہی ہے۔

بعض شامی مہاجرین کا کہنا ہے کہ وہ شدید سرد موسم میں خیموں میں رہنے کے بجائے اپنے گھروں کو لوٹنے کو ترجیح دیں گے خواہ اس کے لیے انھیں موت کے خطرے ہی کا کیوں نہ سامنا کرنا پڑے۔سرحد پر موجود شامی کارکنان نے بتایا ہے کہ اب ہر روز پانچ سو سے ایک ہزار تک شامی شہری سرکاری فوج کی گولہ باری سے بچنے کے لیے سرحدی علاقے کا رُخ کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق شام میں گذشتہ سال مارچ سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں پچیس لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔پڑوسی ممالک میں جانے والے تین لاکھ اٹھاون ہزار مہاجرین کو رجسٹر کیا گیا ہے اور ان سے بھی زیادہ نے اپنی رجسٹریشن نہیں کرائی اور وہ ایسے ہی ان ممالک میں رہ رہے ہیں۔

باغی جنگجوؤں نے گذشتہ روز دارالحکومت دمشق میں صدر بشارالاسد کو بزور اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے فیصلہ کن وار کا آغاز کیا تھا اورانھوں نے صدارتی محل پر گولہ باری کی تھی لیکن ان کا نشانہ خطا گیا تھا۔انھوں نے المزہ میں واقع فوجی ہوائی اڈے اور ایک انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز پر بھی گولہ باری کی تھی۔

درایں اثناء جیش الحر نے ایک اور بیان میں بتایا ہے کہ جنوبی صوبہ درعا میں جنگجوؤں نے فوج کے انٹیلی جنس سربراہ کے بیٹے ابوغزالی کو اغوا کر لیا ہے۔ وہ درعا میں اپنے گھر کی جانب واپس آ رہے تھے۔