نوری المالکی ایرانی فیصلوں کی مخالفت کرنے پر قادر نہیں: مفتی عراق

"اصل مذاکرات مالکی نہیں بلکہ تہران حکومت سے ہونے چاہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مفتی دیار عراق ڈاکٹر رافع الرفاعی کا کہنا ہے کہ سنی رہنما شیخ عبد الملک السعدی کی جانب سے ملک کےمغربی اور شمالی اضلاع، جہاں پانچ ماہ سے مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں، میں شروع کیا گیا مذاکراتی اقدام ناکام ہو چکا ہے کیونکہ عراقی حکومت نے ہر طرح کے مطالبات کے لیے اپنے کان بند کر رکھے ہیں۔

روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے رافع الرفاعی نے وزیر اعظم نوری المالکی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلے خود ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتے، یہ فیصلے ایران سے لیے جاتے ہیں اور وہ صرف سامنے آکر ان کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ المالکی نا ہی کسی دوسرے میں اتنی ہمت ہے کہ وہ ایران کے کیے گئے فیصلے کی مخالفت کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے اصل مذاکرات المالکی نہیں بلکہ ایران کے ساتھ ہونے چاہیں کیونکہ یہ فیصلے المالکی، ان کی حکومت، ان کے وزراء اور ان کی جماعتیں کر ہی نہیں رہیں۔

دیار عراق کے مفتی کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب انبار کے ضلع میں روزانہ بنیادوں پر دھماکے ہو رہے ہیں۔ عراقی دارالحکومت بغداد اور بصرہ میں سامنے آنے والی تشدد کی تازہ لہر میں 62 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 'العربیہ' کے نمائندے کے مطابق ان حملوں میں 121 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

قبل ازیں عراقی پولیس نے بتایا تھا کہ بغداد میں سوموار کے روز چھ کار بم دھماکے ہوئے جس میں کم از کم بیس افراد مارے گئے۔ اسی طرح دو کاریں بصرہ میں دھماکہ خیز مواد سے پھٹ گئیں، جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ دھماکوں کا یہ سلسلہ مختلف حملوں میں 24 پولیس اہلکاروں کے مارے جانے کے کچھ دیر بعد ہی شروع ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں