.

لبنانی عالم دین نے مسجد کو عسکری تربیت گاہ بنا دیا

عبرا میں فوج کے کریک ڈاؤن کے بعد شیخ احمد الاسیر لاپتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شعلہ بیان عالم دین شیخ احمد الاسیر نے جنوبی شہر صیدا میں واقع اپنی مسجد کو فوجی تربیت گاہ بنا دیا ہے اوراس مسجد میں ان کے حامیوں نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور لبنانی فوج کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد ہلکے ہتھیار منتقل کردیے ہیں۔

لبنان کے ایک عسکری ذریعے کے مطابق فوج نے صیدا کے علاقے عبرا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔اس علاقے میں سوموار کو مسلح جھڑپوں میں سترہ لبنانی فوجی اور شیخ الاسیر کے پچاس وفادار ہلاک ہوگئے تھے۔

العربیہ سے نشر ہونے والی ایک خصوصی فوٹیج کے مطابق شیخ احمد الاسیر کے حامیوں نے عبرا کے علاقے میں واقع مسجد بلال بن رباح کو ہتھیاروں اور اسلحے کا ڈپو بنا رکھا تھا۔تاہم گذشتہ روز خونریز جھڑپوں کے بعد سے شیخ الاسیر کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

ایک فوجی ذریعے نے العربیہ کو بتایا ہے کہ اس علاقے میں لڑائی فوج کے کنٹرول اور عالم دین کے فرار کے بعد ختم ہوئی ہے۔فوج نے کارروائی کے بعد سنی عالم دین کے کم سے کم ایک سو دس حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

فوج اب عبرا اور صیدا کے دوسرے علاقوں میں شیخ اسیر کے حامیوں کی تلاش میں چھاپہ مار کارروائیاں کررہی ہے۔ان میں لبنان کے سابق مشہور گلو کار فضل شاکر بھی شامل ہیں جو توبہ تائب ہونے کے بعد اب راسخ العقیدہ مسلمان بن چکے ہیں۔

فضل شاکر نے حال ہی میں لبنان کے جدید ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقہور شامی عوام کو مدد کی ضرورت ہے اور صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار جیش الحر کی مالی اور اسلحی امداد کی جانی چاہیے۔

صیدا میں شیخ اسیر کے حامیوں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں دو افسر اور ایک فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''شیخ احمد الاسیر کے حامی مسلح گروپ نے اتوار کو بلا جواز صیدا کے نواح میں واقع گاؤں عبرا میں فوج کے چیک پوائنٹ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دو افسر اور ایک فوجی مارا گیا۔حملے میں متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی تھیں''۔

اس واقعے کے بعد لبنانی فوج نے عبرا کا محاصرہ کر لیا تھا اور مسلح افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائی شروع کی تھی۔شیخ الاسیر نے اپنے حامیوں کے خلاف کارروائی کے بعد لبنانی فوج کو فرقہ وارانہ قرار دیا اور کہا کہ فوج حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کی حمایت کررہی ہے اور ہم پر حملے کیے جارہے ہیں۔

شیخ احمد الاسیر نے گذشتہ ہفتے حزب اللہ کے صیدا کے نواحی علاقے عبرا میں واقع محفوظ ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔وہ حزب اللہ کے شدید ناقد ہیں اور انھوں نے شیعہ ملیشیا پر عبرا میں واقع اپارٹمنٹس کو جنگجوؤں اور اسلحے کو چھپانے کے لیے استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔عبرا میں ان کے حامیوں اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔اس واقعہ کے بعد صیدا میں فوج کو تعینات کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شیخ احمد الاسیر شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار اہل سنت جنگجوؤں کے حامی ہیں اور انھوں نے ماضی میں اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ شام میں باغی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر اسدی فوج کے خلاف لڑائی میں شریک ہوں۔وہ حزب اللہ کے خلاف ماضی قریب میں سخت بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔