.

تنظیم آزادی فلسطین کی قیادت اسرائیل سے مذاکرات پر ووٹ دیں گے

جان کیری کی اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان غیر مشروط مذاکرات کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین(پی ایل او) کی قیادت امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی جانب سے اسرائیل سے مذاکرات کے لیے پیش کردہ تجاویز پررائے شماری کے ذریعے فیصلہ کریں گی۔

یہ بات پی ایل او کے ایک عہدے دار نے جمعرات کو بتائی ہے۔انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے کی شرط کے بغیر مذاکرات بحال کرنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی کا یہ بڑا مطالبہ ہے کہ اسرائیل یہودی آبادکاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بسانے کا سلسلہ موقوف کرے۔

جان کیری اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں اور مارچ کے بعد انھوں نے مشرق وسطیٰ کا چھٹا دورہ کیا ہے۔ وہ فلسطینی اتھارٹی پر تو یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غیر مشروط طور پربات چیت بحال کرے لیکن ان کا ملک اپنی آلہ کار صہیونی ریاست کو فلسطینی علاقے چھیننے کی روش سے باز رکھنے کو تیار نہیں۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کا مستقبل صہیونی ریاست اسرائیل کے وجود کے ساتھ وابستہ ہے۔انھوں نے اپنے تئیں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی اپنے درمیان خلیج کو پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں مگر انھوں نے فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی تجاویز کی تفصیل بیان نہیں کی اور نہ یہ بتایا ہے کہ ان میں فرق کیسے کم ہوگیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان مارک ریگیف نے رائیٹرز کی اس رپورٹ کو ''نادرست'' قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست نے مشرق وسطیٰ کی 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کے قیام سے اتفاق کیا ہے لیکن اس کے ساتھ زمین کا تبادلہ ہوگا۔

اسرائیل اس سے پہلے 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں تنازعے کے دوریاستی حل کی تجویز کو مسترد کرتا رہا ہے جبکہ فلسطینیوں کا یہ ایک اہم مطالبہ ہے۔

درایں اثناء عرب لیگ کی ایک کمیٹی نے جان کیری کی تجاویز کی توثیق کردی ہے اور کہا ہے کہ یہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لیے مناسب ماحول کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔