.

حزب اللہ کے سربراہ کا ''تکفیریوں'' پر کار بم دھماکے کا الزام

حسن نصراللہ کا نشری تقریر میں ضرورت پڑنے پر شام جانے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ وہ شام میں جاری جنگ میں بہ نفس نفیس حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے بیروت میں حزب اللہ کے کمپلیکس کے نزدیک تباہ کن کار بم دھماکے کے ایک روز بعد جمعہ کو تقریر میں سخت گیر اسلام پسندوں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔ اس واقعے میں بائیس افراد ہلاک اور تین سو پچیس زخمی ہوگئے تھے۔

شامی باغیوں کے ایک غیر معروف گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے جواب میں شیخ حسن نصراللہ نے کہا کہ ''شام میں اگر تکفیریوں (راسخ العقیدہ سنی مسلمانوں) کے خلاف لڑائی ضروری ہوئی تو میں اس میں حصہ لینے کے لیے خود وہاں جاؤں گا''۔

انھوں نے حزب اللہ کے ٹیلی ویژن چینل المنار سے نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ''گذشتہ روز کے حملے سے متعلق تمام اشارے تکفیری گروپوں کی جانب جاتے ہیں''۔

بیروت میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ایک کمپلیکس کے نزدیک زوردار دھماکے کے بعد تین نقاب پوشوں کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تھی جس میں اس گروپ نے خود کا تعارف عائشہ بٹالین کے نام سے کرایا اور کہا کہ ''تم، سؤر حسن نصراللہ کو ہم نے اپنا دوسرا طاقتور پیغام دیا ہے کیونکہ تم ابھی تک سمجھے نہیں ہو''۔

کار بم دھماکے سے حزب اللہ کے کمپلیکس کے نزدیک واقع متعدد عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔ ان عمارتوں کے ملبے تلے دب کر تین سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس بم واقعے سے چھے ہفتے قبل بیروت کے ایک اور جنوبی علاقے میں کار بم دھماکا ہوا تھا جس میں پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں علانیہ شرکت کے بعد سے لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر ہے۔ حزب اللہ اور لبنان کے اہل تشیع اپنے ہم مسلک شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت شامی باغیوں کے حامی ہیں۔ اسی حمایت اور مخالفت کی بنا پر بیروت اور دوسرے بڑے شہر طرابلس میں فریقین کے درمیان حالیہ مہینوں کے دوران خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔