شامی فورسز نے غوطہ پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا: برطانیہ، سویڈن

اقوام متحدہ کے معائنہ کار شامی قصبے میں تباہ کن حملے کی تحقیقات کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے دمشق کے نواح میں حکومت مخالفین پر حملے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

سویڈش نیوز ویب سائٹ ''لوکل'' نے وزیرخارجہ کارل بلڈٹ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ''شامی رجیم کی فورسز نے منگل اور بدھ کے درمیان اپوزیشن کے کنٹرول والے علاقے پر حملے میں تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے''۔

سویڈش وزیرخارجہ کے بعد ان کے برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ ''اس بات کا ثبوت مل گیا ہے کہ دمشق نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اسد رجیم نے بڑے پیمانے پر کیمیائی حملہ کیا ہے لیکن ہم چاہیں گے کہ اقوام متحدہ اس الزام کا جائزہ لے''۔

شام اور روس کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف اسد رجیم کو موردالزام ٹھہرانے کے لیے حملے کو توڑ مروڑ کر پیش کررہی ہے لیکن ولیم ہیگ نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے جعلی ہونے کا بہت کم امکان ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اس کی ایک ہی وضاحت کی جاسکتی ہے کہ یہ کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ ہے۔ اس میں سیکڑوں افراد مارے گئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی کوئی اور وضاحت نہیں کی جاسکتی۔

سویڈش اور برطانوی وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں نہیں تو صورت حال اور بھی زیادہ سنگین ہوجائے گی۔ درایں اثناء شامی کارکنان نے غوطہ میں کیمیائی حملے میں مرنے والوں کی لاشوں کے نمونے حاصل کرلیے ہیں اور وہ انھیں دمشق میں ایک ہوٹل میں مقیم اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں