بہروپن شیطان؟ شام کی خاتون اوّل کا انسٹا گرام پر امن اور محبت کا پرچار
ملک میں جاری خونریزی سے ''شاہی جوڑے'' کا سوشل میڈیا پر اظہار لاتعلقی
شام میں صدر بشارالاسد کی فورسز نے بڑے پیمانے پر خونریزی جاری رکھی ہوئی ہے۔ خانہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں شامی بے گھر ہوچکے ہیں۔ ملک کے بیشتر شہر اجڑ چکے ہیں لیکن خاتون اول اسماءالاسد اس تمام صورت حال سے بے نیاز ہوکر امن اور محبت کا پرچار کررہی ہیں گویا انھیں اپنے خاوند کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ملک میں ہونے والی تباہی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
ڈیلی میل میں جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اسماء الاسد اپنے انسٹا گرام کے اکاؤنٹ پر امن اور محبت کے ماحول کو ظاہر کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر صدارتی اکاؤنٹ کو شامی رجیم کی ہولناک کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن ان کا یہ حربہ شام سے منظرعام پر آنے والی خوفناک ویڈیوز اور تصاویر پر پردہ ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔
شام میں گذشتہ تیس ماہ سے جاری خونریزی کے باوجود اسماء الاسد کے شاہانہ طرز زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا ہے اور انھوں نے بیش قیمت ملبوسات پہننے، پرتعیش گھریلو سامان اور مہنگے فاسٹ فوڈ کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ان کی نت روز کہانیاں منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔
خانہ جنگی کا شکار ملک کی خاتون اول جدید دور کی میری آنٹوئنیٹ ثابت ہورہی ہیں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر تو ایسے لگتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے زمینی حقائق سے بالکل لاتعلق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ناظرین کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔
انسٹا گرام پر ایک صارف نے لکھا: ''مجھے آپ کے جوتے اور ملبوسات بہت پسند ہیں۔ ان کی قیمت آپ کے لوگوں کے خون سے چکائی گئی ہوگی۔ آپ میری آنٹوئنیٹ نظرآتی ہیں اور ایک فرشتے سے آپ کی تشبیہ دی جا سکتی ہے''۔ اسماء جولائی سے انسٹا گرام استعمال کر رہی ہیں۔
ٹویٹر پر بشارالاسد کے مخالف ایک یوزر نے لکھا: ''بہروپیے شیطان کی جانب دیکھو''۔ ایک اور نے زیادہ سخت الفاظ میں لکھا کہ بشارالاسد اور اسماء الاسد جو مرضی کر لیں لیکن وہ شامی عوام کے خون سے رنگے اپنے ہاتھوں کو صاف نہیں کر سکتے ہیں''۔