.

یہودی آبادکاروں کے تحفظ کے لیے اسرائیلی پولیس کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا

قبلہ اول کی طرف آنے والے تمام راستے سیل کر دیئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں کے تحفظ کے لیے اسرائیلی پولیس نے وہاں پر موجود نمازیوں کے خلاف غیرمعمولی کریک ڈاؤن کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مسجد میں موجود نمازیوں کو یہودی آباد کاروں سے دور رکھنے کے لیے ان پر زہریلی اشک آور گیس کی شیلنگ کی گئی اور دینی مدرسے کے طلباء کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

"العربیہ" ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز صہیونی سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بڑی تعداد نے علی الصباح سے مسجد اقصٰی کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق صہیونی پولیس اہلکاروں نے قبلہ اول کے مسجد القبلی کو اس وقت گھیرے میں لے لیا جب انتہا پسند یہودیوں کی ایک بڑی تعداد تلمودی تعلیمات کے مطابق عبادات کی ادائیگی کے وہاں آ پہنچی۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ صہیونی پولیس اور مسجد اقصٰی کے نمازیوں کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں نے فلسطینی شہریوں کو مسجد القبلی میں چلے جانے اور قبلہ اول کے دیگر تمام مقامات کو یہودی آباد کاروں کے لیے خالی کردینے کا حکم دیا۔ فلسطینی شہریوں نے صہیونی پولیس کا یہ مطالبہ ماننے سے انکا کر دیا، جس کے بعد انہیں وہاں سے ہٹانے کے لیے پولیس نے اشک آور گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صہیونی پولیس نے مسجد اقصٰی کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کرکے انہیں سیل کردیا تھا اور صرف 45 سال سے زائد عمرکے افراد کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔ قدیم بیت المقدس کے راستوں پر ناکے لگا کر فلسطینیوں کو روکا گیا اور مسجد اقصٰی کے خارجی دروازے بھی بند کردیے گئے تھے۔

مسجد اقصٰی میں داخلے پرپابندی کے خلاف فلسطینی شہریوں نے صہیونی حکام کے خلاف سخت احتجاج بھی کیا۔ بیت المقدس کے شہریوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان القدس کے قدیم "باب الحطہ" کے قریب جھڑپیں ہوئیں۔ مشتعل شہریوں نے صہیونی پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں اٹھا کر پھینک دیں۔ جوابی کارروائی میں پولیس نے ان پر آنسوگیس کے شیل پھینکے۔

خیال رہے کہ حالیہ کچھ ایام بالخصوص یہودیوں کے عبرانی سال کے آغاز کے بعد سے یہودی آباد کاروں کی مسجد اقصٰی میں مداخلت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مسجد اقصٰی میں موجود فلسطینی معتکفین اور یہودی آباد کاروں کے درمیان کشیدگی اب روز مرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ پیش آئند ایام میں یہودیوں کی "عید العرش" کے موقع پر مسجد اقصٰی میں آنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد میں اضافے کے بعد کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔