.

یہودی بستیاں مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں: یورپی یونین

"اسرائیل مقبوضہ فلسطینی شہروں میں توسیع پسندی روک دے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے ایک مرتبہ پھر سختی سے خبردار کیا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی توسیع پسندی اور یہودی بستیوں کی تعمیر خطے میں دیرپا قیام امن کی مساعی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

یورپی یونین کے رکن ملک جمہوریہ لیتھونیا کی صدر ڈالیا گریپو اسکائیٹ، جو کہ ان دنوں یورپی یونین کی بھی سربراہ ہیں، نےاسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ عرب شہروں میں توسیع پسندانہ سرگرمیاں بند کر دیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس سے ویلینس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسز ڈالیا نے کہا کہ "یورپی یونین، اسرائیل کی یہودی بستیوں کو صہیونی ریاست کا حصہ نہیں سمجھتی۔ اس کے ساتھ ہم یہ خبردار کرتے ہیں کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ سرگرمیاں خطے میں قیام امن کے لیے جاری بات چیت کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات ایک تاریخی موقع ہیں۔ انہیں نہ صرف جاری رہنا چاہیے بلکہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اسرائیل کو توسیع پسندی سے باز رہنا چاہیے۔

"یورپی برادری مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی پرزور حامی ہے اور اس مقصد کے لے مذاکرات کی پر جوش حمایت جاری رکھے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل دو آزاد اور خود مختار پڑوسی ملک بنیں اور بقائے باہمی کے اصول کے تحت امن و محبت کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کریں۔"

قبل ازیں یورپی دورے پر آئے فلسطینی صدر محمود عباس نے برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہودی کالونیوں کو"غیرقانونی" قرار دیتے ہوئے ان پر فوری اور مستقل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ فلسطین ، اسرائیل امن مذاکرات امریکی نگرانی میں گذشتہ جولائی کو تین سالہ تعطل کے بعد بحال ہوئے تھے، تاہم یہ بات چیت ایک مرتبہ پھر پھیکی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

فلسطینی اعلٰی مذاکرات کار صائب عریقات نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعٓظم بنجمن نیتن یاھو امن مساعی کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ فلسطین میں یہودی آبادکاری پر نظر رکھنے والی ایک اسرائیلی تنظیم" اب امن" کی جانب سے گذشتہ ہفتے بتایا گیا تھا رواں سال کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں یہودی کالونیوں میں مکانات کی تعمیر میں 70 فی صد اضافہ ہوا ہے۔