.

اومان خلیج یونین کا کیوں مخالف ہے؟

سلطان قابوس بیک وقت جی سی سی اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلطنت آف اومان نے چھے خلیجی ریاستوں کی مجوزہ یونین میں شمولیت سے یکسر انکار کردیا ہے اور اس نے یہ فیصلہ ایران کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کے پیش نظر کیا ہے۔وہ بیک وقت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ اپنے مضبوط تعلق کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ایران کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا ہے۔

اومان نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر جی سی سی کو یورپی یونین کے طرز پر خلیج یونین بنانے کی مخالفت کی ہے۔اومانی وزیرخارجہ یوسف بن علاوی نے ہفتے کے روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ سکیورٹی ڈائیلاگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم خلیجی یونین کے خلاف ہیں''۔

سعودی عرب نے 2011ء میں جی سی سی کو ترقی دے کر خلیج یونین بنانے کی تجویز پیش کی تھی اور بحرین نے اس کی حمایت کی تھی۔تاہم بعض ممالک کی جانب سے اس پر تحفظات کے پیش نظر اس پر غورموخر کردیا گیا تھا اور اب کویت میں تنظیم کے اجلاس میں اس تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔

وینس کی جامعہ کافوسکاری کے اسسٹینٹ پروفیسر میٹیو لیگرینزی کا کہنا ہے کہ ''سعودی عرب کی خلیج یونین کے قیام سے متعلق تجویز کے عملی طور پر بہت کم اثرات ہوں گے لیکن اس کی ایک علامتی قدر ہے اور وہ یہ کہ یہ ممکنہ طور پر ایران مخالف اتحاد میں تبدیل ہوجائے گی اور یہ امر اومان کے مفادات کے خلاف ہے''۔

لنگرینزی''جی سی سی اور خلیج میں بین الاقوامی تعلقات''کے عنوان سے کتاب کے مصنف ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ''سعودی زیادہ سخت یونین سے متعلق اپنی تجویز کی توثیق چاہتے ہیں لیکن اومان نے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس سے ایران ناراض ہوسکتا ہے''۔

مستحکم تعلقات

اومان ایران کے ساتھ مستحکم تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ان دونوں ممالک کے درمیان 1970ء کے عشرے سے بہتر تعلقات چلے آرہے ہیں تب شاہ ایران کی کمان میں ایرانی فورسز اور برطانوی اتحادیوں نے اس خلیجی ریاست میں ظفار بغاوت کو فرو کرنے میں مدد دی تھی۔

اب شاہ ایران کی حکومت کے خاتمے کے تین عشرے کے بعد بھی سلطان قابوس کے اسلامی جہوریہ کے ساتھ بہتر تعلقات استوار ہیں۔سلطان کے امریکا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اس سال کے آغاز میں ان دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کے لیے ثالثی کی تھی اور انہی کے نتیجے میں نومبر میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر سمجھوتا طے پاگیا ہے۔

جی سی سی کا سوئٹزرلینڈ

واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک نیو امریکا فاؤنڈیشن کی محققہ افشین مولاوی کا کہنا ہے کہ غیر جانبداری اومانی سلطنت کی اولین ترجیح ہے۔ان کے بہ قول اومان تو خارجہ پالیسی کے معاملے میں خلیج تعاون کونسل کا سوئٹزرلینڈ ہے۔

واشنگٹن ہی میں قائم ایک اور ادارے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر تھامس لپمین کا کہنا ہے کہ اومان خلیجی ریاستوں اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔اس کے دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے کچھ فاصلہ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات کے معاملے میں سلطان نے ہمیشہ اپنے کارڈز اپنے سینے کے قریب رکھے ہیں اور انھوں نے خاص طور پر ایران کے خلیج کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اومان کے اس پس منظر کے باوجود دوسری خلیجی ریاستیں جی سی سی کو یونین میں تبدیل کرنے کی حامی ہیں۔

تاہم واشنگٹن کی اطلانتک کونسل میں رفیق حریری مرکز برائے مشرق وسطیٰ کے سینیر فیلو اور کویت میں سابق امریکی سفیر رچرڈ لی بارن کی نظر میں خلیج میں ایک مربوط سکیورٹی ادارے کے قیام کے لیے کوئی زیادہ جوش وخروش نہیں پایا جاتا۔

ان کے بہ قول انھیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ سعودی عرب اور بحرین کے علاوہ دوسری خلیجی ریاستوں میں بھی یونین کی تجویز سے متعلق کوئی جوش وخروش موجود ہے۔

سعودی عرب متعدد مرتبہ جی سی سی کی رکن ریاستوں کے درمیان زیادہ اتحاد پر زوردے چکا ہے اور وہ ایران کے خلاف ایک مشترکہ سکیورٹی ادارے کے قیام کا خواہاں ہے۔نیویارک یونیورسٹی کے مرکز برائے عالمی امور کے سینیر فیلو بن میر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی کے نزدیک یہ سکیورٹی یونین نیٹو طرز کے اتحاد میں تبدیل ہوسکتی ہے اور خلیج میں ایک وسیع تر سکیورٹی معاہدے سے ایران کو تنظیم کے رکن ممالک میں مداخلت سے روکا جاسکے گا۔

خلیج تعاون کونسل میں سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،کویت ،قطر ،اومان اور بحرین شامل ہیں۔ان تمام ممالک کی کل آبادی قریباً چار کروڑ ستر لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور ان میں بھی قریباً نصف تعداد غیرملکی تارکین وطن کی ہے۔خلیجی ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے یہ تنظیم 1981ء میں قائم کی گئی تھی۔جی سی سی کے رکن ممالک دنیا کے خام تیل کے معلوم ذخائر کے 40 فی صد اور قدرتی گیس کے 25 فی صد ذخائر کےمالک ہیں۔