.

"شام میں حزب اللہ کے سیکڑوں جنگجوؤں کی ہلاکت 'جھوٹ' ہے"

لڑائی کے لیے نفیرعام کا اعلان نہیں کیا گیا: حسن نصر اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی سخت گیر شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سپریم کمانڈر حسن نصراللہ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی جماعت کے جنگجو شام میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑ رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ شام کے محاذ جنگ میں حزب اللہ کے سیکڑوں جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبریں بے بنیادی ہیں۔ یہ خبریں لبنانی، عرب اور عالمی میڈیا کی پروپیگنڈہ مہم ہے، ورنہ حزب کا شام میں کوئی قابل ذکر جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار جنوبی بیروت میں جمع اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے ٹیلی ویژن خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک حزب اللہ کی جانب سے شامی جنگ میں حصہ لینے کے لیے نفیرعام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی عوام سے بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے کی "کال" دی گئی ہے۔ فی الحال ان کی تنظیم اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتی کیونکہ عالمی برادری شام کے تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے کوشاں ہے۔ سفارتی میدان میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے بعد نفیرعام کے اعلان کی ضرورت نہیں رہے گی۔

خیال رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف تین سال سے جاری عوامی بغاوت کے دوران اب تک حزب اللہ کے دسیوں جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبریں آتی رہیں ہیں۔ شامی جنگ میں حزب اللہ کی شمولیت نے شام کو بشار الاسد کے حامی اور مخالف ملیشیا میں تقسیم کر رکھا ہے۔ دونوں طرف تشدد کے بھی کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ حسن نصراللہ کی جانب سے شامی جنگ کے دفاع سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ ان کی جماعت کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد محاذ جنگ پرموجود ہے۔

حسن نصراللہ نے کہا کہ شام میں بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف جنگ دراصل شامی قوم، لبنان، فلسطینی قوم اور مسئلہ فلسطین کی بقاء کی جنگ ہے۔ اسے حزب اللہ کی جنگ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ یہ مزاحمت کی علامت اور صہیونی دشمن کے خلاف فرنٹ لائن دفاعی طاقت کی بقاء کی جنگ ہے۔

خیال رہے کہ 33 ماہ سے جاری جنگ میں اب تک کم سے کم ایک لاکھ 26 ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ بشار الاسد اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی جنگ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ تاہم اس مسلح تحریک میں خود بشار الاسد کی فوج کے ہزاروں اہلکار بھی باغیوں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں۔