.

اردن، فلسطین کی تاریخی و ثقافتی علامت 'وادی اردن' اسرائیل میں ضم

وادی میں حضرت عبیدہ بن جراح سمیت کوئی صحابہ آسودہ خاک ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کابینہ نے اردن سے متصل پر فضاء اور تاریخی مقام 'وادی اردن' کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے ایک متنازعہ قانون کی منظوری دی ہے۔ یہ مقام کئی تاریخی اور تہذیبی حوالوں سے منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں جلیل القدر صحابی رسول' امین امت' سیدنا عبیدہ ابن الجراح اور کئی دیگر محترم صحابہ کرام کے مزارات واقع ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل کی حکمراں جماعت "لیکوڈ" اور اس کی اتحادی "جیوش ہوم" کے وزراء نے حال ہی میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دی، جس کے تحت مقبوضہ وادی اردن کو مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کی طرح اپنے انتظامی کنٹرول میں لانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

کابینہ کمیٹی میں لیکوڈ اور جیوش ہوم کے آٹھ وزراء نے اس متنازعہ قانون کی حمایت کی جبکہ صرف تین وزراء نے اس کی مخالفت کی ہے۔ مخالفت کرنے والوں میں وزیر انصاف زیپی لیونی بھی شامل ہیں۔

صہیونی کابینہ میں یہ مسودہ قانون لیکوڈ کے رکن پارلیمنٹ میری ریگیو نے پیش کیا۔ مسٹر ریگیو اس سے قبل وادی اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیرات سے متعلق قوانین سازی پرعمل درآمد کی بھی نگرانی کر چکے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کا ردعمل

وادی اردن کو یک طرفہ طور پر اسرائیل میں ضم کیے جانے پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار ڈاکٹر صائب عریقات نے اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو"امن مساعی پر حملہ" قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی نگرانی اور کوششوں سے جاری دیرپا قیام امن کی کوششوں کے لیے اس طرح کے اقدامات سخت چیلنج ہیں۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی"معا" کے مطابق صائب عریقات کا کہنا تھا کہ وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا قانون منظور کر کے تل ابیب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے نزدیک عالمی قوانین اور معاہدوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ عریقات کے بہ قول" میں یہ بات واضح الفاظ میں کہہ رہا ہوں کہ اسرائیلی حکومت نے وادی اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کر کے عالمی قوانین کو دیوار پر دے مارا ہے۔

خیال رہے کہ اردن کی سرحد سے متصل وادی اردن ایک پرفضاء اور سرسبز و شاداب سر زمین ہے۔ یہ تاریخی اعتبار سے بھی اپنی ایک خاص پہچان اور اہمیت رکھتی ہے۔ اردن کی سرحد کے ساتھ ساتھ چار سو کلومیٹر کی سرحد پر پھیلی یہ وادی مقامی فلسطینی آبادی کی زراعت اور آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ فلسطین میں اسے پھلوں اور سبزیوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔ وادی اردن کے کئی پھل مشہور ہیں مگر یہاں پر کاشت کیا جانے والا کیلا اپنی مثال آپ ہے۔

سنہ 1967ء کوجب اسرائیل نے اس وادی پرقبضہ کیا یہاں نصف ملین کے قریب فلسطینی آباد تھے۔ اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی وادی چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اب وہاں صرف 70 ہزار فلسطینی مقیم ہیں۔

وادی اردن میں جلیل القدر صحابی رسول حضرت عبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ کے علاوہ کئی دیگر صحابہ کرام بھی آسودہ خاک ہیں۔ ان میں ضرار بن الآزور، شرحبیل بن حسنہ ،معاذ بن جبل اور کثیر تعداد میں تابعین کی آخری آرام گاہیں اسی سرزمین پر ہیں۔

وادی اردن اور فلسطین ۔ اسرائیل مذاکرات

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان اب تک ہونے والے مذاکرات کے تمام ادوار میں وادی اردن ایک حساس اور اہم موضوع رہا ہے۔ دونوں فریق وادی اردن کو اپنی اپنی ریاست کا اٹوٹ انگ قرار دینے پر زور دیتے رہے ہیں۔ سنہ 2009ء میں سابق فلسطینی وزیراعظم سلام فیاض نے وادی اردن کی تعمیرو ترقی کے لیے دو سالہ ایک ترقیاتی منصوبہ شروع کیا تھا۔

اس منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام اس وادی میں ایک ہوائی اڈے کا قیام بھی شامل تھا۔ انہوں نے اپنے بیانات میں بھی یہ واضح کیا تھا کہ فلسطینی عوام وادی اردن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس کے بغیر فلسطینی ریاست "ایک کارٹونی مملکت" تو ہوسکتا ہے لیکن پائیدار ریاست نہیں بن سکتی۔

اس کے مقابلے میں اسرائیلی حکومتیں بھی وادی اردن میں تعمیر وترقی کے ساتھ ساتھ یہودی آباد کاری پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ 2009ء میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے وادی اردن کا دورہ کیا۔ نیتن یاھو وادی اردن میں قائم "ماسکیوٹ" یہودی کالونی میں بھی گئے۔ اس کالونی میں کم سے کم آٹھ ہزار یہودی آباد ہیں۔

انہوں نے بھی وادی اردن کو اسرائیلی ریاست کا اٹوٹ انگ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وادی اردن سے دستبرداری کے نتیجے میں اسرائیلی ریاست کی مشرقی سرحد غیر محفوظ ہوجائے گی۔ عسکریت پسند اس وادی کو بیرون ملک سے اسلحہ اسمگلنگ اورسرحد پار دراندازی کی کارروائیاں کریں گے۔ سرحد پار سے عسکریت پسندوں کی مداخلت کی روک تھام کا واحد ذریعہ وادی اردن پر مستقبل قبضہ ہے۔