.

عراق میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں معاونت کو تیار ہیں: ایران

'تہران، بغداد کو جنگی سامان کی فراہمی کے لیے بھی تیار ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اپنے حلیف عرب ملک عراق کو شدت پسند تنظیم القاعدہ کے خلاف جنگ میں ہر ممکن مدد کی پیش کش کی ہے۔ ایران کے ڈپٹی آرمی چیف جنرل محمد حجازی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک عراق کو القاعدہ کے جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے ہرممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "ایرنا" نے ڈپٹی آرمی چیف جنرل محمد حجازی کا ایک بیان نقل کیا ہے کہ "عراقی حکومت ضرورت محسوس کرے تو ہم اسے فوجی ساز و سامان اور لڑائی کے طریقہ کار بارے مشورہ دینے کو تیار ہیں، تاہم عراق کو ہمارے فوجیوں کی ضرورت نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ بغداد نے ہم سے تکفیری دہشت گردوں کےخلاف مشترکہ آپریشن کی درخواست نہیں کی ہے۔ ہم خود ہی جنگ میں عراقی حکومت کی معاونت کو تیار ہیں۔ تکفیری دہشت گردوں سے ان کی مراد شدت پسند تنظیم القاعدہ تھی۔

خیال رہے کہ عراق ان دنوں القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروپوں کے بدرین حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔ عراق کے سنی اکثریتی صوبہ الانبار میں پچھلے ایک ماہ سے جاری کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور فلوجہ شہر کے بیشتر حصوں پر القاعدہ کی ذیلی تنظیموں کا کنٹرول قائم ہے۔

ایران کے ساتھ ساتھ امریکا نے بھی اپنی کٹھ پتلی حکومت کو القاعدہ کے خلاف جنگ میں معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکی فوجیوں کو عراق بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے۔