.

عبوری حکومت، اپوزیشن کی شمولیت کی بات مذاق ہے: بشار الاسد

رفیق الحریری کے قتل میں حزب اللہ کو ملوث کرنا سیاست ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے بیرون ملک موجود اپوزیشن رہنماوں کو عبوری حکومت کیلیے نامزد کرنے کی باتوں کو ایک مذاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تیس منٹ کے لیے ایک تصویر بنوانے کی خاطر سرحد پر آتے ہیں اور اس کے بعد بھاگ جاتے ہیں۔ انہوں نے اس امر اظہار عالمی خبر رساں ادارے کے ساتھ انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

بشارالاسد نے انٹرویو کرنے والے سے استفہامیہ انداز میں کہا '' ایسے لوگ کس طرح وزیر بن سکتے ہیں؟'' انہوں نے کہا ایسے تصورات غیر حقیقت پسندانہ ہیں، تاہم ایک لطیفے کے طور پر یہ بات بہت اچھی ہے۔''

واضح رہے شامی اپوزیشن نے جنیوا ٹو میں ایران کو شرکت کی دعوت ملنے پر خود کو اس امن کانفرنس سے الگ رکھنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

بشارالاسد کا کہنا تھا کہ ''جنیوا ٹو کا اصل ہدف دہشت گردی کیخلاف جنگ کرنا ہے، یہ امن کانفرنس اس حوالے نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے۔'' بشارالاسد نے کہا کیا شام کو ایسی جنگ ہار جانی چاہیے جس کے ہارنے سے پورے مشرق وسطی میں بد امنی پھیل سکتی ہے۔؟''

شام کے صدر نے افواج کے اپنے ساتھ وفادار ہونے کا حوالہ دیا اور کہا مملکت شام نے اپنے شہریوں کی ہمیشہ حفاظت کی ہے، اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی تنظیموں میں سے کسی کے پاس اس چیز کا ایک بھی دستاویزی ثبوت یا شہادت موجود نہیں ہے کہ حکومت نے اپنے ہی شہریوں کا خود قتل عام کیا ہے۔''

بشارالاسد نے کہا '' ہماری حکومت آگے بڑھ رہی ہے لیکن اس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ فتح ہمارے سے ہاتھ کے فاصلے پر ہے، کیونکہ اس نوعیت کی لڑائیاں بڑی پیچیدہ ، مشکل اور طویل ہوتی ہیں۔'' اگلے صدارتی انتخاب میں بطور امیدوار سامنے آنے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا '' یہ ایک عوامی خواہش اور ضرورت ہے، لہذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں امیدوار نہ بنوں۔''

لبنان کے مقتول وزیر اعظم رفیق الحریری کے مقدمہ قتل کی سماعت شروع ہونے کے بارے میں ایک سوال پر '' بشارالاسد نے عالمی خصوصی عدالت پر الزام عاید کیا کہ یہ عدالت حزب اللہ کو ملوث کر کے سیاسی مقاصد پورے کر رہی ہے، مقصد شام کی اتحادی حزب اللہ کو دباو میں لانا ہے۔''