ابو الفتوح نے آیندہ انتخابات کو ڈھونگ قرار دے کر مذمت کر دی
سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار کا آیندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان
مصر کے سابق صدارتی امیدوار عبدالمنعم ابوالفتوح نے مسلح افواج کی نگرانی میں قائم حکومت پر ملک میں خوف وہراس کی جمہوریہ قائم کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور آیندہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
عبدالفتوح نے اتوار کو قاہرہ میں نیوز کانفرنس کے دوران آیندہ انتخابات کو ڈھونگ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ ''ہمارا ضمیر ہمیں مصری عوام کو دھوکا دینے کی کارروائی اور ایسے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا جو درحقیقت انتخابات نہیں ہوں گے''۔
انھوں نے کہا کہ یہ تو''جمہوریہ خوف وہراس'' ہے۔ باسٹھ سالہ عبدالمنعم ابوالفتوح مضبوط مصر پارٹی کے سربراہ ہیں۔اس جماعت کے بعض کارکنان کو گذشتہ ماہ نئے آئین کے خلاف ''نہیں'' کے حق میں ووٹ کے لیے مہم چلانے اور پوسٹر تقسیم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ''جو کوئی بھی مصری اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہے ،وہ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ اس کو نقصان پہنچایا جائے گا، گرفتار کر لیا جائے گا، اس کے مکان پر دھاوا بول دیا جائے گا یا اس کے خلاف من گھڑت مقدمہ قائم کر دیا جائے گا اور یہ کہا جائے گا کہ آپ عدلیہ کی توہین کر رہے ہیں''۔
انھوں نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ اب تک اکیس ہزار سیاسی کارکنان کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ انھوں نے فوج کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ انقلاب 25 جنوری کے بعد اس جمہوریہ خوف وہراس میں نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''جن قوموں نے بھی خوف کی رکاوٹوں کو دور کر دیا، وہ پھر ان کے آگے نہیں جھکیں گی''۔
واضح رہے کہ عبدالمنعم ابوالفتوح 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔وہ اخوان المسلمون سے سالہا سال تک وابستہ رہے تھے اور اس کے سینیر لیڈروں میں شمار ہوتے تھے لیکن انھوں نے صدارتی انتخابات میں آزادانہ طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا تو اخوان نے انھیں جماعت سے نکال باہر کیا تھا۔ان کی جماعت نے 14 اور 15 جنوری کو نئے آئین پر منعقدہ ریفرینڈم کا بائیکاٹ کیا تھا اور اب انھوں نے آیندہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔
وہ سابق صدر حسنی مبارک کے دور حکومت میں جیلیں کاٹ چکے ہیں لیکن وہ اپنی سابقہ جماعت سے تعلق رکھنے والے مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے بھی شدید ناقد تھے۔
اب تک بائیں بازو کے سیاست دان اور 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہنے والے حمدین صباحی نے ہی آیندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔دوسرے شکست خوردہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ اگر آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی صدارتی امیدوار ہوئے تو وہ ان کی حمایت کریں گے ۔تاہم سیسی نے ابھی تک صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔عبوری صدر عدلی منصور کے مطابق صدارتی انتخابات 18 اپریل سے قبل ہوں گے۔
-
مصر: حمدین الصباحی کا صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان
باغیانہ [تمرد] تحریک کی قیادت میں اختلافات
مشرق وسطی -
نئے گروپ سپاہ مصر نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی
جرائم پیشہ حکام کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی: سپاہ مصر
مشرق وسطی -
"امریکا اخوان کو لیبیا، مصر، تیونس میں اقتدار دلوانا چاہتا تھا"
بارود کے ڈھیر پے کھڑا لیبیا اپنے اور پڑوسی ملکوں کے لیے خطرہ ہے: جبریل
بين الاقوامى -
مصر کا قطر کو اخوان المسلمون کی حمایت پر انتباہ
قطر کے ساتھ اختلافات معمول سے بڑھتے جارہے ہیں:حازم الببلاوی
مشرق وسطی -
مصر کا قطر سے ''بھگوڑوں'' کو حوالے کرنے کا مطالبہ
علامہ یوسف قرضاوی اور دیگر اخوانی لیڈروں کو حوالے نہ کرنے پر قطر پر تنقید
مشرق وسطی -
مصر: پارلیمانی سے پہلے صدارتی انتخابات ہوں گے
مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت نے انتخابی شیڈول میں تبدیلی کر دی
مشرق وسطی