.

''سب اچھا ہے '' وزیر اعظم اور لیبیا کے سکیورٹی کے ادارے کا اعلان

وزیر دفاع نے سابق فوجی حکام کے اقتدار پر قبضے سے خبردار کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سلامتی سے متعلق ادارے نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ملک میں کسی بغاوت کا خطرہ ہے۔ یا ایسی کوئی کاروائی کامیاب ہو سکتی ہے۔

لیبیا میں سپریم سکیورٹی کمیٹی کا قیام 2011 میں عمل میں لایا گیا تھا تاکہ معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے فوج کے خلا کو پر کیا جا سکے۔

جمعرات کے روز لیبیا کے وزیردفاع عبداللہ تہانی نے قومی ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ سابہ فوجی حکام اور بعض سیاستدان مل کر ملک میں فوجی بغاوت کی تیاری کر رہے تھے تاہم بغاوت ناکام بنا دی گئی ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق اس بغاوت کا مقصد موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ کی برطرفی تھا۔ اس بغاوت کے پس پردہ کرداروں کی گرفتاری کیلیے لیبیا کے فوجی سربراہ نے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اس سے پہلے جمعہ ہی کے روز '' العربیہ '' نے ایک ایسی فوٹیج دکھائی تھی جس میں سابق فوجی سربراہ خلیفہ حفتارکو پارلیمنٹ کی برطرفی اور پانچ نکاتی نقشہ کار کا اعلان کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔

تاہم ''العربیہ '' کے نمائندے نے یہ ان ابتدائی اطلاعات کی تردید کی ہے طرابلس مں مواصلاتی نظام کو منقطع کر دیا گیا ہے اور باغی فوج نے شہر کی سڑکوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

دریں اثنا لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان نے اعلان کیا ہے ملک میں صورتحال قابو میں ہے اور طرابلس میں حکومتی مشینری معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ اعلان سابق فوجی حکام کی بغاوت کی کوشش ناکام بنانے کے بعد کیا ہے۔

وزیر اعظم نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا ملک میں ہر چیز ایک دم بہتر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کسی کو انقلاب کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ واضح رہے پچھلے سال وزیر اعظم علی زیدان کو بحی مسلح افراد نے ایک صبح مقامی ہوٹل سے اغوا کر لیا تھا۔