.

شام:باغی جنگجوؤں کی باہمی لڑائی، دو ماہ میں 3300 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے ان کی فوج سے برسرجنگ مختلف باغی جنگجو گروپوں کے درمیان گذشتہ دوماہ کے دوران باہمی خونریز جھڑپوں میں قریباً تین ہزار تین سو افراد مارے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی دوسرے باغی جنگجو گروپوں کے ساتھ لڑائی میں نو سو چوبیس جنگجو مارے گئے ہیں۔ان کے علاوہ سات سو اور جنگجو ہلاک ہوئے ہیں لیکن کسی بھی گروپ نے ان کی ہلاکت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ جنوری کے آغاز کے بعد سے داعش اور دوسرے باغی جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں دوسو اکاسی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ان جھڑپوں کے نتیجے میں شامی فوج کے خلاف محاذآراء باغی جنگجو گروپوں کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع ہو چکی ہے اور وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بجائے ایک دوسرے کی ہی گردنیں ماررہے ہیں۔

القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ ،جیش الحر اور دوسرے جنگجو گروپوں کی جنوری کے آغاز سے شام کے تین صوبوں حلب ،ادلب اور الرقہ میں داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور اس لڑائی میں پہلے پندرہ سو سے دوہزار کے درمیان افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی تھی لیکن اب ہلاکتوں کی تعداد تینتیس سو بتائی جا رہی ہے۔

باغی جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں کو ہتھیانے کے لیے ہوئی ہیں اور انھوں نے ایک دوسرے پر تباہ کن بم حملے بھی کیے ہیں۔ النصرۃ محاذ اور دوسری باغی تنظیموں نے حلب اور ادلب سے داعش کے جنگجوؤں کو ان کے مضبوط ٹھکانوں سے نکال باہر کیا ہے۔

شامی گروپوں کے درمیان اس باہمی لڑائی کو ختم کرانے کے لیے القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے متحارب اسلامی جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق وشام کو منگل کو علماء کی ثالثی قبول کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا تھا۔

ابو محمد الجولانی نے ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے آڈیو ٹیپ میں داعش سے کہا کہ ''ہم اس ریکارڈنگ کی تاریخ سے پانچ روز تک آپ کے باضابطہ جواب کا انتظار کریں گے لیکن اگر آپ نے اللہ کے حکم کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا اور اُمہ (مسلم امت) کے خلاف اپنے طاعون کے خاتمے کے لیے کچھ نہ کیا تو پھر اُمہ اس جاہلانہ نظریے کے خلاف حملے کا آغاز کرے گی اور اس کا قلمع قمع کر دے گی حتیٰ کہ عراق سے بھی اس کا صفایا کردیا جائے گا''۔