.

مرشد عام اخوان المسلمون سمیت 1200 کارکنوں کیخلاف ٹرائل شروع

مقدمے میں تشدد اور توڑ پھوڑ کا الزام عاید کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت 1200 سے زائد کارکنوں اور حامیوں کے خلاف آج ہفتے کے روز سے مقدمے کی سماعت شروع ہو رہی ہے۔ مصری تاریخ میں بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں کے خلاف پہلی مرتبہ مشترکہ طور پر مقدمہ بنایا گیا ہے۔

مرشد عام، اور دیگر رہنماوں سمیت ان بارہ سو سے زائد افراد پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انہوں نے 14 اگست 2013 کو پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی بحالی کیلیے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے دھرنے کے اکھاڑے جانے کے بعد پر تشدد احتجاج کیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی۔

واضح رہے قاہرہ میں النہضہ سکوائر اور جامعہ مسجد رابعہ العدوایہ سے دھرنا مظاہرین کو اکھاڑ پھینکنے کے دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کم از کم 1400 مصری ہلاک ہو گئے تھے۔ جس کے بعد اخوان کی کال پر ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا تھا۔

معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف آج ہفتے کے روز یہ ٹرائل دارالحکومت کے جنوب میں منیا کے علاقے میں متوقع ہے، جہاں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اخوان المسلمون سے وابستہ ان ملزمان کو ملک کے مختلف حصوں سے حراست میں لیا گیا تھا۔

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی جنہیں پچھلے سال 3 جولائی کو فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے برطرف کر دیا تھا، خود بھی جیل میں ہیں اور مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر قتل کیلیے اکسانے کا الزام بھی عاید کیا گیا ہے۔