روحانی کا ایران، کمپیوٹر گیمز کے ذریعے مخالفین کا قتل

گیم میں بتائے گئے اہداف میں موسوی اور مہدی کروبی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اعتدال پسند ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے دور صدارت میں ایران میں ایک ایسی وڈیو گیم کے ابھی تک آزادانہ کھیلے جانے پرپابندی عاید نہیں کی گئی ہے، جس میں سیاسی مخالفین کو کھیل ہی کھیل میں شوٹ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کمپیوٹر میں ان سیاستدانوں کو قابل گردن زدنی قرار دیا گیا ہے جو 2009 کے متنازعہ صدارتی انتخاب میں شامل رہے تھے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپیوٹر گیم ایرانی انقلاب کے ساتھ وفاداری رکھنے والے نوجوانوں نے بنائی ہے۔ یہ گیم کھیلنے والوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ موقع وہ مخالف سیاستدانوں کو نشانہ بنا سکیں۔ گیم 2009 کے صدارتی انتخاب کے بعد سامنے آئی ہے جس میں اصلاحات پسندوں کے بارے میں ''سیڈیسٹ ''کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

ایسے سیاستدانوں کو کھلاڑیوں کی فائرنگ کا ہدف بتایا گیا ہے۔ واضح رہے میر حسین موسوی اور مہدی کروبی جنہیں 2011 سے گھروں میں نظر بند رکھا گیا ہے اپوزیشن رہنماوں کے طور پر گیم میں دکھائے گئے ہیں۔

ایرانی کمپیوٹر گیمز فاونڈیشن کے ذمہ دار حسین معظمی نے بتایا ہے کہ اس گیم کے تیار کرنے والی کمپنی کے مالک نے کمپنی اور کاروبار کیلیے کوئی لائسنس حاصل نہیں کیا ہے۔ اس لیے پولیس اور دوسری متعلقہ اتھارٹیز کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ واضح رہے صدر حسن روحانی نے ان معاملات کو طے کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک طے نہیں ہو سکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں