شام:حمص میں مسجد کے باہر بم دھماکا،14 افراد جاں بحق

اسدی فوج کی شہر کے باغیوں کے زیرقبضہ علاقے کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے وسطی شہر حمص میں ایک مسجد کے باہر بم دھماکے کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ شامی فوج نے شہر کے قدیم حصے کی جانب پیش قدمی کی ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق حمص میں بلال حبشی مسجد کے سامنے نماز جمعہ کے بعد بم دھماکا ہوا ہے۔اس وقت نمازی مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔سرکاری ٹیلی ویژن نے اس کو دہشت گردی کا حملہ قراردیا ہے۔فوری طور پر اس بات کی تصدیق ممکن نہیں کہ یہ بم دھماکا کس نہیں کیا ہے لیکن مسجد بلال حبشی حمص کے حکومت کے کنٹرول والے علاقے میں واقع ہے۔

صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے گذشتہ کئی ماہ سے حمص کے قدیم حصے کا محاصرہ کررکھا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں باغی اور شہری محصور ہوکررہ گئے ہیں۔فروری میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں طے پائے ایک سمجھوتے کے بعد کم سے کم ایک ہزار شہریوں کو اس محصور علاقے سے باہر منتقل کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے باغی جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

شامی فوج نے اسی ہفتے دوبارہ باغیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔شام کے ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ فوج روزانہ پیش قدمی کررہی ہے،وہ عمارتوں پر قبضے کررہی ہے اور اس نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شامی فوج کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ فوج باب ہود اور وادی ال سیح میں بمباری کررہی ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ فوج نے بعض عمارتوں پر ہی قبضہ کیا ہے اور اس کی کسی پوری شاہراہ یا حصے پر کنٹرول نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ حمص میں اس وقت موجود باغی جنگجو شہر کے علاقوں کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں،اس لیے انھوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کردیا اور وہ انجام تک لڑائی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں