.

مصر:جنسی ہراسیت کے خلاف جنگ مذہبی اور قومی فریضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی نئی حکومت نے سب سے بڑے معاشرتی مسئلے جنسی ہراسیت کے انسداد کا بیڑا اٹھا لیا ہے اور مذہبی امور کے وزیر محمد مختار جمعہ کا کہنا ہے کہ ملک میں جنسی ہراسیت کے خلاف جنگ ایک مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جو لوگ خواتین پر جنسی حملوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرتے ہیں،وہ اللہ کے ہاں اپنے ان گناہوں پر مستوجب سزا ہوں گے''۔

مصر کے وزیر مذہبی امور نے یہ بیان نئے منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کی گذشتہ اتوار کو دارالحکومت قاہرہ کے صدارتی محل میں حلف برداری کے موقع پر میدان التحریر میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے متعدد شرم ناک واقعات کے تناظر میں جاری کیا ہے۔مصری حکومت کی جانب سے ان واقعات کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

صدرعبدالفتاح السیسی نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد جنسی ہراسیت کے خاتمے کے لیے نافذ العمل نئے قانون پر فیصلہ کن انداز میں عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔اس قانون کے تحت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے میں ملوث مجرموں کو پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔ مصر کے سبکدوش ہونے والے صدر عدلی منصور نے گذشتہ ہفتے اس قانون کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت اس جرم میں ملوث افراد پر بھاری جرمانہ بھی عاید کیا جاسکے گا۔

واضح رہے کہ مصری خواتین ایک عرصے سے انفرادی یا اجتماعی ہراسیت کا شکار ہیں لیکن 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد سے خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کی گذشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 99 فی صد زیادہ مصری خواتین کو کسی نہ کسی شکل میں ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے۔مصری خواتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے خواہ روایتی اسلامی لباس پہنا ہو یا مغربی طرز کے کپڑے زیب تن کیے ہیں،انھیں ہر دوصورتوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔