شام، لبنان کے بعد 'باسیج' اب عراق میں سرگرم
پڑوسی ملکوں شام اور لبنان میں ایران کی فوجی مداخلت کے بعد ایرانی فورسز عراق میں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔
اس بات کا انکشاف پاسداران انقلاب کے محمد رسول اللہ بریگیڈ کے سربراہ میجر جنرل حسین ھمدانی نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ جنرل ہمدانی کا کہنا ہے کہ شام میں نیم سرکاری طاقتور ملیشیا باسیج کے 10 ہزار جنگجو جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
ایران کی فارسی نیوز ویب پورٹل 'خبر آن لائن' کے مطابق جنرل ہمدانی نے بتایا کہ لبنان اور شام کے بعد اب باسیج عراق میں بھی خود کو منظم کر رہے ہیں۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل حسین ہمدانی نے کہا کہ لبنان اور شام میں باسیج کے قیام کے بعد اب عراق میں بھی اس کی کھیپ تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے 100 اسپیشل کمانڈوز شام روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں تاہم فی الوقت ایران کو اپنے مزید فوجی شام بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ جنرل حسین ہمدانی ماضی میں یہ انکشاف بھی کر چکے ہیں کہ شام میں ایران کے 42 بریگیڈ اور 138 بٹالین فوج بشارالاسد کے دفاع میں لڑ رہی ہے۔ ان میں علوی، سنی اور شیعہ عناصر شامل ہیں۔
-
پاسداران انقلاب کا جاری معاشی منصوبے حکومت کو دینے سے انکار
ایرانی حکومت تاخیر کے شکار منصوبے فوج سے واپس لینے کی خواہاں
بين الاقوامى -
بارودی سرنگ دھماکے میں پاسداران انقلاب کے تین اہلکار ہلاک
بلوچستان عدل آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی
بين الاقوامى -
ایرانی پاسداران انقلاب کا تجربہ کار کمانڈر شام میں ہلاک
دمشق کے نواح میں ''دہشت گردوں'' کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا:رپورٹس
بين الاقوامى -
بشار الاسد کی مدد کے لئے 4000 پاسداران انقلاب شام بھجوانے کی منظوری
تہران خود کو ہر قمیت پر دمشق کی مدد کرنے کا پابند سمجھتا ہے
مشرق وسطی -
دمشق میں ایرانی پاسداران اور حزب اللہ کے ارکان کی موجودگی کی تصدیق
دمشق کے نواح سے حزب اللہ کے ارکان گرفتارکرنے کا دعویٰ
مشرق وسطی -
شامی جنگ کے لئے ایرانی رضاکار بھرتی مہم کا آغاز
ابو الفضل العباس کے نام سے پاسداران انقلاب کے ذیلی یونٹ کا قیام
بين الاقوامى