شام، لبنان کے بعد 'باسیج' اب عراق میں سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

پڑوسی ملکوں شام اور لبنان میں ایران کی فوجی مداخلت کے بعد ایرانی فورسز عراق میں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔

اس بات کا انکشاف پاسداران انقلاب کے محمد رسول اللہ بریگیڈ کے سربراہ میجر جنرل حسین ھمدانی نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ جنرل ہمدانی کا کہنا ہے کہ شام میں نیم سرکاری طاقتور ملیشیا باسیج کے 10 ہزار جنگجو جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

ایران کی فارسی نیوز ویب پورٹل 'خبر آن لائن' کے مطابق جنرل ہمدانی نے بتایا کہ لبنان اور شام کے بعد اب باسیج عراق میں بھی خود کو منظم کر رہے ہیں۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل حسین ہمدانی نے کہا کہ لبنان اور شام میں باسیج کے قیام کے بعد اب عراق میں بھی اس کی کھیپ تیار کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے 100 اسپیشل کمانڈوز شام روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں تاہم فی الوقت ایران کو اپنے مزید فوجی شام بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ جنرل حسین ہمدانی ماضی میں یہ انکشاف بھی کر چکے ہیں کہ شام میں ایران کے 42 بریگیڈ اور 138 بٹالین فوج بشارالاسد کے دفاع میں لڑ رہی ہے۔ ان میں علوی، سنی اور شیعہ عناصر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size