.

امریکا، عراق میں 'دوسرا یوکرین' بنانا چاہتا ہے: ایران

"ضرورت پڑنے پر عراق کو اسلحہ فراہمی ممکن ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق میں فوج بھجوانے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم بغداد کے مطالبے پر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کو اسلحہ فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

اپنے دورہ ماسکو میں ایرانی وزیر نے مزید کہا عراق میں معاملات امریکی منصوبہ بندی کے تحت رونما ہو رہے ہیں اور ان کا منتہی عراق کو 'دوسرا یوکرین' بنانا ہے۔

ماسکو میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسین امیر نے مزید کہا کہ ایران، عراق کی سرکاری فوج کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کے لئے اپنی فوج بغداد نہیں بھیجنا چاہتا۔

مترجم کے توسط سے اپنا ما فی الضمیر بیان کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ "اس وقت عراقی سر زمین پر نہ ہمارے فوجی ہیں اور نہ ہی ہم اسی فوج عراق بھیجنے کا ارداہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عراق نے ہم سے اسلحہ کا مطالبہ بھی نہیں کیا، اگر ایسی بات ہوئی تو اسے بین الاقوامی قوانین اور دونوں ملکوں کے درمیان معاہدات کی روشنی میں ہی روبعمل لایا جائے گا۔ ہم عراق کو صرف وہی اسلحہ فراہم کریں گے جس کی اسے دہشت گردی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے کی ضرورت ہو گی۔

عبداللھیان نے امریکا پر الزام عاید کیا کہ وہ متشدد جنگجووں کی جتنی بھی مذمت کر لیں تاہم اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ عراق کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ہے خود امریکا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ عراق میں جو کچھ ہوا، وہ بیرونی مداخلت اور امریکا کے تیارکردہ منصوبے کا عملی اظہار ہے۔ امریکی، عراق میں ایک نیا یوکرین بنانا چاہتے ہیں، اس سے ان کی مراد روس کی سرکاری فوج اور ملک کے مشرقی حصے میں روس نواز علاحدگی پسند جنگجووں کے درمیان کئی ہفتوں سے لڑائی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں عبداللھیان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ 'ہم پوری طاقت سے عراق کی تقسیم کی مخالفت کریں گے۔"