.

مظاہرین کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا:حسنی مبارک

افراتفری پھیلانے یا سکیورٹی خلا پیدا کرنے کا بھی حکم نہیں دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے عدالت میں اپنا دفاع کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ انھوں نے 2011ء کے اوائل میں اپنے خلاف عوامی بغاوت کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کا حکم نہیں دیا تھا۔انھوں نے ملک کے عدالتی نظام پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

حسنی مبارک نے بدھ کو قاہرہ میں عدالت میں پہلے سے تیارشدہ بیان پڑھ کر سنایا ہے۔انھوں نے کہا:''حسنی مبارک نے،جو آج آپ کے سامنے حاضر ہے،مظاہرین کی ہلاکتوں یا مصریوں کا خون بہانے کا حکم نہیں دیا تھا۔نیزمیں نے افراتفری پھیلانے کا حکم جاری کیا تھا اور نہ سکیورٹی خلا پیدا کرنے کا حکم دیا تھا''۔

مصر کے سابق صدر نے عدالت میں لمبا چوڑا بیان پڑھا ہے جس میں انھوں نے فوجی افسر کی حیثیت سے اپنے کردار سے لے کر فروری 2011ء میں اپنے اقتدار کے خاتمے تک کے ادوار کا احاطہ کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ''یہ شاید عدالت میں میری آخری پیشی ہو کیونکہ میری زندگی اختتام کی جانب گامزن ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ میں ہوش وحواس میں ہوں اور میں مطمئن ہوں کہ میں نے یہ زندگی مصر کے دفاع میں گزاری ہے''۔

انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ بے گناہ ہیں اور کہا کہ ''انھوں نے باسٹھ سال تک مصر کی خدمت کی ہے''۔چھیاسی سالہ حسنی مبارک وھیل چئیر پر عدالت میں پیش ہوئے تھے۔انھوں نے نیلے رنگ کی قیدیوں والی وردی پہن رکھی تھی اوریہ اس بات کی علامت تھی کہ انھیں اسی ہفتے بدعنوانی کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

حسنی مبارک ،ان کے وزیرداخلہ اور چھے سکیورٹی مشیروں کے خلاف جنوری اور فروری 2011ء میں اٹھارہ روزہ حکومت مخالف عوامی تحریک کے دوران قریباً ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں دوبارہ مقدمہ چلایا جارہا ہے۔وہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد دوسال سے زیادہ عرصے تک جیل میں قید رہے تھے اور انھیں گذشتہ سال اگست میں رہا کیا گیا تھا۔تب سے وہ قاہرہ کے جنوب میں واقع علاقے معدی میں ایک فوجی اسپتال میں نظربند ہیں۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے اطلاع دی ہے کہ فوجی اسپتال نے گذشتہ اتوار کو عدالت کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ان کی صحت اب بہتر ہے۔درایں اثناء عدالت نے کہا ہے کہ وہ حسنی مبارک کے خلاف اس کیس کا فیصلہ 27 ستمبر کو سنائے گی۔