.

داعش کے خلیفہ کا مشیر فضائی حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے سربراہ (خلیفہ) کا ایک مشیر فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا ہے۔

عراقی وزارت دفاع نے جمعرات کو ایک بیان میں اس مشیر کے ساتھ داعش کی ایک اور شخصیت کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔فوری طور یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ فضائی حملہ کس نے کیا ہے کیونکہ عراقی فضائیہ کے علاوہ امریکی فوج بھی شمالی شہروں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

امریکی جنگی طیارے اگست کے اوائل سے شمالی عراق میں داعش کی پیش قدمی کو روکنے اور اس کی سرکوبی کے لیے فضائی حملے کررہے ہیں جبکہ امریکا عراق میں جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے بھی کوشاں ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے آج ویلز میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر تقریر میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ان کا ملک ایسے کسی عالمی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی نے شام اور عراق میں سنی اکثریتی صوبوں پر قبضہ کر کے وہاں اسلامی خلافت کے نام سے اپنی خلافت قائم کررکھی ہے اور اس کے لیڈر ابوبکر البغدادی نے ازخود ہی اپنے زیرنگیں علاقے میں خلیفہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔وہ 2013ء میں دولت اسلامی عراق وشام کی تشکیل کے بعد سے اس کے لیڈر چلے آرہے ہیں۔اس سے پہلے وہ اس کی پیش رو تنظیم دولت اسلامی عراق کے لیڈر تھے۔

داعش نے جب عراق اور شام میں اپنے زیرنگیں علاقوں میں ابو بکرالبغدادی کی خلافت کا اعلان کیا تھا تو اس نے اس کے بعد اپنا نام بھی مختصر کر لیا تھا۔نام میں سے عراق اور شام کے الفاظ حذف کردیے تھے اور اس کو صرف دولت اسلامی کر لیا تھا لیکن اب پھر اس کو دوبارہ اس کے پورے نام سے لکھا اور پکارا جارہاہے کیونکہ القاعدہ اور دوسرے بہت سے جنگجو گروپوں نے داعش کی خلافت اور خلیفہ کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

یہ جنگجو تنظیم القاعدہ کے جہادی اور سخت گیر نظریے پر عمل پیرا ہے لیکن اس نے اسامہ بن لادن کے جانشین ڈاکٹر ایمن الظواہری سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔اس کے علاوہ شام میں دوسرے جنگجو گروپوں کے ساتھ بھی اس کی لڑائی جاری ہے اور اس کے سخت گیر نظریات کی وجہ سے ان کے درمیان مفاہمت نہیں ہوسکی ہے۔