.

النصرہ فرنٹ نے یرغمال لبنانی فوجی کو گولی مار دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ نے یرغمال بنائے گئے لبنانی فوجیوں میں سے ایک کو گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی "اناطولیہ" کے مطابق النصرہ فرنٹ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹیوٹر پر ایک بیان کے ساتھ ایک ویڈیو فوٹیج بھی پوسٹ کی ہے جس میں مغوی لبنانی فوجی محمد حمیہ گو سر میں گولی مار کر قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔ مقتول کے قریب ایک دوسرے مغوی فوجی علی البزال کو بھی دکھایا گیا ہے جس نے اپنی جان بچانے کے لیے النصرہ فرنٹ کے مطالبات تسلیم کرنے اور فوج کی حراست میں موجود اسلامی عسکریت پسندوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

خیال رہے کہ النصرہ فرنٹ کی جانب سے ایک ماہ قبل لبنان کے سرحدی قصبے عرسال میں ایک کارروائی کے دوران یرغمال بنائے گئے فوجی کے قتل کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

النصرہ فرنٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں لبنانی فوج اور حزب اللہ پر الزام عائد کیاہے کہ انہوں نے مغویوں کی رہائی کے حوالے سے جاری مذاکرات ناکام بنانے کے لیے عام شہری گرفتار کر رکھے ہیں۔ جب تک انہیں رہا نہیں کیا جاتا لبنانی فوجیوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

لبنانی حکومت کی جانب سے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں النصرہ فرنٹ کے ہاتھوں ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ لبنانی وزیر دفاع سمیر مقبل نے ایک بیان میں بتایا کہ عرسال قصبے سے یرغمال بنائے گئے ایک سپاہی محمد حمیہ کو دہشت گرد تنظیم نے قتل کردیا ہے اور اس نے دیگر مغویوں کے قتل کی بھی دھمکی دی ہے۔

قبل ازیں جمعہ کی شام کو لبنانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی النصرہ فرنٹ کے ہاں یرغمال بنائے گئے ایک فوجی کے قتل کی تصدیق کی تھی۔ اس سے کچھ دیر قبل النصرہ فرنٹ نے ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے یرغمال بنائے گئے ایک لبنانی فوجی کو قتل کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ لبنانی فوج کی قید میں ‌موجود ہمارے ساتھیوں کی رہائی نہ ہونے اور فوج کی ہٹ دھرمی کے بعد ہم نے ایک فوجی کو قتل کیا ہے۔ شدت پسند تنظیم کے ہاں یرٍغمال بنائے گئے دوسرے فوجیوں نے لبنانی فوج اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی جانیں بچانے کے لیے اسلامی عسکریت پسندوں کو رہا کر دیں۔