.

بیلجیم: 46 اسلام پسندوں کے خلاف مقدمہ شروع

عسکریت کے لیے ذہن سازی کا الزام بیس سال تک سزا ممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک اسلام پسند گروپ ''''شریعہ برائے بیلجیم سے وابستہ 46 افراد کے خلاف مقدمے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس سلفی پس منظر رکھنے والے گروپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دہشت گردی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔ نوجوانوں کی جہاد کے لیے ذہن سازی کرتا ہے اور بعد ازاں شام میں جہاد کے لیے بھرتی کرتا ہے۔

مقدمے کی سماعت کا آغاز شمالی بیلجیم کے بندرگاہی شہر اینتورپ کی عدالت میں کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر 46 میں سے صرف آٹھ ملزمان دستیاب تھے، باقی 38 ملزمان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ شام میں عسکری کارروائیوں کا حصہ ہیں۔

بیلجیم کی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو بیلجیم سے سب سے زیادہ شرح سے عسکریت پسند شام میں لڑنے کے لیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر انتہا پسندی کو مانیٹر کرنے والے ایک ادارے کے مطابق بیلجیم کے عسکریت پسند شہریوں کی مجموعی تعداد تین سو ہے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق بیلجیم میں سرگرم شریعہ گروپ کے ترجمان کے طور پر ایک 32 سالہ فواد بل قاسم سامنے آیا ہے۔ یہ شریعہ گروپ بیلجیم میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔

پراسیکیوٹر این فرانسن کا کہنا ہے کہ '' ایسی کئی تقاریر اور ویڈیو اکٹھی کی گئی ہیں جن میں نماز، روزے کے علاوہ جہاد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ واضح رہے ان دنوں شریعہ گروپ کا ترجمان قاسم اشتعال انگیزی اور غیر مسلم کے خلاف نفرت پھیلانے کی بنیاد پر جیل میں بند ہے۔

پراسیکیوٹر نے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ گروپ کس طرح نوجوانوں، کے علاوہ خواتین کو اپنی طرف جہاد کے لیے مائل کرتا ہے۔ پراسیکیوٹر کے معاون نے بتایا '' اس گروپ کے عزائم صاف طور پر نوجوانوں کو مسلح لڑائی کے لیے تیار کرتا ہے۔''

گروپ کے ترجمان قاسم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے پہلے القاعدہ کی طرز کی ایک تنظیم میں شمولیت کی جو بعد ازاں داعش میں تبدیل ہو گئی ۔

قاسم بیلجیم کے ایک چھوٹے قصبے کا رہائیشی ہے وہ اسی قصبے میں پیدا ہوا تھا۔ 2010 میں اس نے شریعہ برائے بیلجیم نام سے گروپ قائم کیا ۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اس کا برطانیہ کے ایک سلفی گروپ کے انجم چوہدری سے سے بھی رابطہ ہے۔

واضح رہے انجم چوہدری کو برطانیہ میں ایک ہفتہ پہلے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انجم چوہدری المہاجرون نامی کالعدم تنظیم کا سربراہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پراسکیوٹر نے بتایا اگر قاسم اور اس کے ساتھیوں پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔