تین لبنانی فوجی منحرف ہو کر عسکریت پسندوں سے جا ملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنانی فوج اور اسلامی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے جُلو میں فوج میں پھوٹ کی بھی اطلاعات آئی ہیں "لیبانون فائلز" نامی ایک نیوز ویب پورٹل کی رپورٹ کے مطابق چند روز کے دوران تین لبنانی فوجی منحرف ہونے کے بعد شام میں سرگرم عسکریت پسندوں سے جا ملے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چند روز قبل محمد عنتر نامی ایک لبنانی فوجی نے بغاوت کرتے ہوئے القاعدہ کی ذیلی تنظیم النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس کے چوبیس گھنٹے بعد ایک دوسرے فوجی عبداللہ شحادہ نے بغاوت کرتے ہوئے النصرہ میں شمولیت کا اعلان کیا اور اب اطلاعات ہیں کہ عبدالقادر اکومی نامی ایک تیسرے فوجی نے بھی بغاوت کرتے ہوئے اسلامی شدت پسند گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ تینوں‌ نے اپنے دوسرے ساتھیوں سے بھی کہا ہے کہ وہ فوج کو چھوڑ کر عسکری گروپوں میں‌ شامل ہو جائیں۔

رپورٹ کے مطابق عبداللہ شحادہ نے فوج سے منحرف ہونے اور شدت پسند تنظیم میں شمولیت کے بعد اپنے اہل خانہ سے فون پر رابطہ بھی کیا اور انہیں فوج سے فرار کے اپنے فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ فوج سے فرار کے بعد شام کے شہر القلمون میں النصرہ فرنٹ میں شامل ہو گیا ہے۔ جاتے ہوئے وہ ہلکے ہتھیار اور رات کی تاریکی میں استعمال ہونے والی کئی دوربینیں بھی ساتھ لے گیا تھا۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی تین فوجیوں کے منحرف ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ چند روز میں‌ یکے بعد دیگرے تین سپاہی فوج سے فرار کے بعد جنگجوؤں سے جا ملے ہیں۔

فوج سے فرار اختیار کرنے والے پہلے اہلکار محمد عنتر نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ برس صیدا کے مقام پر لبنانی فوجیوں کو شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے قتل کیا اور اس کا الزام سلفی شدت پسند احمد الاسیرکے سر تھوپ دیا تھا۔

ایک ہفتے کے دوران تین فوجیوں کے فرار اور عسکریت پسندوں میں‌ شمولیت کے بعد لبنانی فوج میں‌ مزید پھوٹ کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ لبنانی صحافی اور اسلامی تنظیموں کے امور کے ماہر حازم الامین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جیسے جیسے جنگ کا دائرہ وسیع ہو گا لبنانی فوج میں‌ پھوٹ کے اتنےہی زیادہ امکانات پیدا ہوں‌ گے کیونکہ لبنانی فوج میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو شامی باغیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی فوج میں سپاہیوں کا فرار ایک خطرناک رجحان ہے جس کے نتیجے میں فوج کے ادارے کو سخت خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ لبنانی فوج ایک جانب اندرون ملک فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمےکے لیے متحرک ہے اور دوسری جانب سے اسے حزب اللہ جیسے شیعہ گروپوں کی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔

لبنانی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج کو دوہرے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی میں لبنان سے دو قسم کے گروپ شام روانہ ہو رہے ہیں۔ ایک طرف حزب اللہ کے شیعہ جنگجو ہیں جو صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑتے ہیں اور دوسری جانب شامی اپوزیشن کے حامی عناصر ہیں۔ لبنانی فوج ان دونوں قسم کے جنگجوؤں کو شام جانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایسے حالات میں فوج میں خود بھی بے چینی پھیل رہی ہے کہ آیا وہ کس کی حمایت اور کس کی مخالفت کریں۔ انہی وجوہات کی بناء پر فوج میں‌ پھوٹ پیدا ہو رہی ہے اور اہلکار یا تو بھاگ کر گھروں کو چلے جاتے ہیں یا دوسرے عسکری گروپوں میں شمال ہو جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں