.

اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحدی گذرگاہیں بند کردیں

غزہ سے اسرائیلی علاقے کی جانب راکٹ داغے جانے کے بعد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع دو سرحدی گذرگاہوں کو لوگوں اور اشیاء کی آمد ورفت کے لیے تاحکم ثانی بند کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایریز اور کیرم شالوم کراسنگ پوائنٹس کو تاحکم ثانی بند کردیا گیا ہے۔البتہ ان دونوں داخلی راستوں سے صرف انسانی امداد غزہ لے جانے کی اجازت ہوگی۔

ترجمان نے کہا ہے کہ یہ اقدام جمعہ کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوبی علاقے کی راکٹ فائر کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔یہ راکٹ ایشکول کے علاقے میں گرا تھا لیکن اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

16 ستمبر کے بعد غزہ سے اسرائیل کی جانب یہ پہلا راکٹ فائر کیا گیا ہے اور غزہ پر اسرائیل کی مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ دوسرا راکٹ حملہ ہے۔اب صہیونی فوج کے اقدام کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

ادھر غرب اردن کے علاقے میں بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور انتہا پسند یہودی مسلمانوں کے متبرک مقام اور پہلے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔

فلسطینی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اسرائیل مسجد الاقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور وہ مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے جس پر فلسطینیوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے اور ان کی حالیہ دنوں کے دوران صہیونی سکیورٹی فورسز کے ساتھ متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اسرائیل نے بدھ کی شب ایک انتہا پسند یہودی آبادکار پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد مسجدالاقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا تھا اور ایک روز بعد اس کو کھولا تھا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے مسجد الاقصیٰ کی بندش کو اعلان جنگ قرار دیا تھا۔

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس میں بدھ کو ایک فلسطینی معتز حجازی کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔اس پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس نے مسجد الاقصیٰ میں یہودیوں کوعبادت کی اجازت دینے کی تحریک چلانے والے ایک آباد کار ربی کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی اور اس پر فائرنگ کی تھی۔اس واقعہ کے بعد اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔