.

مقبوضہ القدس: یہودیوں کے لیے 78 مکانوں کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں دو یہودی بستیوں میں آباد کاروں کے لیے مزید اٹھہتر نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ کی ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ بلدیہ کی منصوبہ بندی کمیٹی نے یہودی بستی حارحوما میں پچاس نئے مکانات اور راموت میں اٹھائیس نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

اسرائیل غرب اردن میں واقع ان دونوں یہودی بستیوں کو مقبوضہ بیت المقدس کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کی انتظامیہ نے ایسے وقت میں یہودی آبادکاروں کے لیے ان مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے جب شہر میں فلسطینیوں اور قابض حکام کے درمیان شدید کشیدگی پائی جارہی ہے اور گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ سے شہر میں مسلسل تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے اس اسرائیلی فیصلے کے ردعمل میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''صہیونی ریاست کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ کشیدگی پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے خالی نہیں جانے دے رہی ہے''۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اوربعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اسرائیل اب عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود فلسطینی سرزمین پر یہودی آباد کاروں کے لیے تعمیرات کو جاری رکھے ہوئے ہے حالانکہ امریکا اور یورپی یونین نے حال ہی میں اس کے فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے کے لیے اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔

اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

فلسطینی غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔ان کا عالمی برادری سے مطالبہ ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے ایک ڈیڈ لائن مقرر کرے،1967ء سے قبل کی سرحدوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی عاید کردے۔