.

مصر:مظاہرین سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کا عزم

ملک بھر میں کسی بھی جگہ گڑبڑ کی صورت میں کریک ڈاؤن کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں جمعہ کے روز اسلام پسند جماعتیں ملک گیر احتجاجی مظاہرے کرنے کی تیاری کررہے ہیں جبکہ حکومت نے کسی بھی گڑبڑ کی صورت میں کریک ڈاؤن کی دھمکی دی ہے۔

اسلامی جماعتوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ سروں پر قرآن مجید کے نسخے رکھ کر مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔اس صورت میں اگر سکیورٹی اہلکار ان کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس کو اسلام اور قرآن کی توہین گردانا جائے گا۔

مصر کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس نے مظاہرین کے اس حربے کا توڑ کرنے کے لیے خصوصی سکیورٹی یونٹ تیار کر لیے ہیں۔وزارت داخلہ نے اخوان المسلمون سے وابستہ دہشت گردی کے ایک سیل کو ٹوڑنے کا بھی دعویٰ کیا ہے جو اس کے بہ قول آج ملک بھر میں گڑ بڑ پھیلانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

بیان کے مطابق اس گروپ کے ارکان فوجی وردیاں پہن کر دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔اخوان المسلمون اور سلفی جماعتوں نے چند ماہ کے وقفے کے بعد حکومت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کررکھی ہے۔اگر مصری فورسز ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی ہیں تو پھر ان کے لیے لوگوں کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر لانا ناممکن ہوگا۔

درایں اثناء دارالحکومت قاہرہ کے شہرۂ آفاق میدان التحریر میں جمعرات کی رات سے ہی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔بہت سے مصریوں کا کہنا ہے کہ وہ جمعہ کو اپنی سماجی سرگرمیوں کو معطل کررہے ہیں اور وہ کہیں باہر نکلنے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے کے بجائے اپنے گھروں ہی میں رہیں گے۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ احتجاجی ریلیوں کے دوران بم دھماکے ہوسکتے ہیں یا تشدد کے دوسرے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

مصر کی طاقتور فوج نے صدر عبدالفتاح السیسی کے حکم کے تحت اہم ریاستی تنصیبات اور عمارتوں کے تحفظ کی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں۔قبل ازیں مصری کابینہ نے بدھ کو انسداد دہشت گردی کے ایک مجوزہ قانون کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت حکومت کو قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے یا نقض امن کے ذمے دار کسی بھی گروپ پر پابندی عاید کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ مصری حکومت نے پہلے ہی سکیورٹی فورسز کو غیر معمولی اختیارات سونپ رکھے ہیں۔انھوں نے گذشتہ مہینوں کے دوران اخوان المسلمون اور دوسرے حکومت مخالف گروپوں کے خلاف ان اختیارات کا بھرپور استعمال کیا ہے اور ان جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا ہے۔ان میں سے سیکڑوں کو عدالتوں سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت موت اور عمرقید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔