طرابلس کی آزادی کی جنگ جاری رہے گی، وزیراعظم عبداللہ
مصر اور امارات کی فضائی کارروائیوں کی تردید
لیبیا کے عالمی سطح پرتسلیم شدہ حکومت کے وزیر اعظم عبداللہ الثنی نے دارالحکومت طرابلس کو عسکریت پسندوں سے واپس لینے کے لیے فوجی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا "ہماری افواج طرابلس کو آزاد کرانے کے لیے بڑھ رہی ہیں۔" وزیراعظم کے بقول دارالحکومت کے مغرب کی طرف سے فوج پیش قدمی کر رہی ہے اور تیونس سے ملنے والی سرحد پر کنٹرول کرے گی۔
لیبیا گذشتہ کئی ماہ سے دو حکومتوں اور دو پارلیمانوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس تقسیم سے قبل ایک ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی ہوتی رہی اور بعد ازاں عسکری گروپ نے طرابلس پر قبضہ کر لیا تھا۔
اب طرابلس میں اس عسکری گروپ کی حمایت سے ایک پارلیمنٹ اور حکومت قائم ہے اور دوسری حکومت لیبیا کے مشرقی مگر دورافتادہ سرحدی شہر میں قائم ہے۔
پچھلے تین برسوں سے لیبیا مسلسل عسکری گروپوں کی لڑائیوں کی زد میں ہے۔ عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ مصر اور متحدہ عرب امارات وزیر اعظم عبداللہ الثنی کی فضائی کارروائیوں سے مدد کر رہے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
-
جنرل خلیفہ حفتر کا طرابلس پر قبضے کا عزم
سابق جنرل نے انٹرویو میں خود کو تین ماہ کی ڈیڈلائن دے دی
بين الاقوامى -
طرابلس ائیر پورٹ کے ارد گرد لڑائی، 4 ہلاک ، 10 زخمی
مسافر پروازیں فوجی ائیر بیس سے جاری رکھنا بھی ممکن نہ رہا
بين الاقوامى -
لبنان: اسلام پسندوں اور فوج میں تصادم، 16 زخمی
پر تشدد واقعہ ملک کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں پیش آیا
مشرق وسطی