لیبیا:حکومتی فورسز کی عسکریت پسندوں پر بمباری
آئل پورٹ کے راستوں پر اب بھی کنٹرول ہے: عسکری گروپ
لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اسلامی عسکریت پسندوں کی متوازی حکومت کی حامی عسکری ملیشیا کے خلاف فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ کارروائیاں تیل سے متعلق اہم تنصیبات پر قبضے کے لیے کی گئی ہیں۔
دو ہزار گیارہ میں جب سے معمر قذافی کا اقتدار ختم ہوا ہے لیبیا سخت بد امنی کا شکار ہے۔ اس بد امنی اور تصادم کی انتہا یہ ہے کہ اس وقت لیبیا میں دو حکومتیں اور دو ہی پارلیمنٹس کام کر رہی ہیں۔
اسلامی عسکری گروپوں کے اتحاد نے ماہ اگست میں دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس قبضے کی وجہ سے لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو لیبیا کے مشرق میں ایک سرحدی قصبے میں منتقل ہونا پڑا تھا۔
عسکری اور سیاسی میدان میں تصادم کے کئی برسوں کے بعد اب تیل کے وسائل اور پیداوار کے ذرائع پر قبضے کے لیے بھی لڑائیاں جاری ہیں۔ حکومتی فورسز نے متوازی عسکری حکومت کے عسکریت پسندوں پر السدر آئل پورٹ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور بمباری کی ہے۔
دوسری جانب طرابلس میں قائم حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ محاصرے میں لیے گئے آئل پورٹ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر اس کے عسکریت پسند قابض ہیں۔
ایک عالمی خبر رساں ادارے کی ٹیم نے راس جدیر کے علاقے کا دورہ کیا ہے۔ اس دوران عسکری گروپوں سے وابستہ مسلح افراد کو حفاظتی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس جگہ سے صرف چھ کلو میٹر کے فاصلے پر بمباری کی گئی تھی۔
عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا کہنا ہے کہ آئل پورٹ کو جانے والی راہداری پر اس کا کنٹرول ہے۔ دوسری جانب سرحدی محافظین کا کہنا ہے کہ '' اب سرحدوں پر امن بحال ہو گیا ہے۔''
تیونس سے آنے والے ٹرک خوراک لے کر آ رہے ہیں۔ جبکہ لیبیا کے موٹر کار سوار بھی دوسری سمت میں نقل و حرکت کرتے نطر آتے ہیں۔
اس صورت حال کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ '' تشدد کے واقعات میں اضافہ اقوام متحدہ کی امن کوششوں کو متاثر کرنے کے لیے تھا، تاہم اب اقوام متحدہ کی کوشش سے اسی ہفتے کے دوران یہ مذاکرات ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے مذاکرات کے مراحل ممکن بنانے والے خصوصی نمائندے اور ان کی ٹیم پہلے ہی سے لیبیا میں ہے۔