.

حلب:شامی باغیوں کے حملے میں 19 افراد ہلاک

اسدی فوج کے زیر قبضہ علاقے میں مرنے والوں میں پانچ بچے شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے اسدی فوج کے کنٹرول والے علاقے پر گولہ باری سے انیس افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق حلب کے مغربی حصے پر حملے کے مہلوکین میں پانچ بچے میں شامل ہیں اور ان میں تین بچے اپنی والدہ کے ساتھ جاں بحق ہوئے ہیں۔وہ ایک کار میں سوار تھے اور اس پر ایک راکٹ آکر لگا تھا۔

واضح رہے کہ حلب میں 2012ء کے وسط سے شامی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔تب سے یہ شہر دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔اس کے مغربی حصے پر سرکاری فوج کا قبضہ ہے اور مشرقی حصے میں باغیوں نے اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔حال ہی میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے شہر کے مشرقی علاقوں کی جانب پیش قدمی کی ہے اور اس نے باغیوں کے زیر قبضہ ان علاقوں کے محاصرے کی دھمکی دی ہے۔

آبزرویٹری نے گذشتہ روز اطلاع دی تھی کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں 2014ء کے دوران چھہتر ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ان میں ایک بڑی تعداد شامی فوج کے فضائی حملوں میں ماری گئی ہے۔ان مہلوکین میں 33278 شہری شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اگست 2014ء میں جاری کردہ اعداد وشمار میں بتایا گیا تھا کہ شام میں مارچ 2011ء سے جاری تنازعے کے نتیجے میں ایک لاکھ اکانوے ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں مہلوکین کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔