.

حزب اللہ میں اسرائیلی جاسوس بھرتی کیے جانے کا انکشاف

حسن نصراللہ نے بھی اعتراف کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے تنظیم میں نقب لگاتے ہوئے ایک اہم عہدے پر اپنا جاسوس بھرتی کرنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم اسرائیلی جاسوس کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

لبنان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے چند ہفتے پیشتر خبر دی تھی کہ حزب اللہ نے تنظیم کے بیرون ملک آپریشنل کارروائیوں کے ذمہ دار کو حراست میں لیا ہے۔ تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

گذشتہ روز حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل الشیخ حسن نصراللہ نے المیادین ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ‘‘ہاں اسرائیل اور امریکا کے خفیہ ادارے تنظیم میں نقب لگانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک جاسوس کو جماعت میں اہم عہدے تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم اب اسے گرفتارکرلیا گیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے مبینہ جاسوس کے بارے میں ذرائع ابلاغ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ میرے حفاظتی عملے میں شامل تھا، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اسرائیلی جاسوس میرے حفاظتی دستے کا حصہ تھا اور نہ اس کا تنظیم کے دفاعی اور میزائل شعبے سے کوئی تعلق تھا۔

الشیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ گرفتار شخص کو دشمن ممالک کے خفیہ اداروں کی جانب سے حزب اللہ میں افراتفری پھیلانے کے لیے متعین کیا گیا تھا تاہم وہ تنظیم کے دفاعی شعبے میں نہیں تھا اور نہ ہی اسے کوئی حساس نوعیت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے اور اس شخص کے درمیان ہونے والی بات چیت اور معلومات کو اس نے اسرائیلی خفیہ اداروں تک پہنچایا ہے۔ حسن نصراللہ نے حراست میں لیے گئے تنظیم کے عہدیدار کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم حزب اللہ کے مقرب ذرائع کے مطابق مبینہ جاسوس کا نام محمد شوربا ہے جس کا آبائی تعلق جنوبی لبنان کے محرونہ قصبے سے ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد شوربا نے کم عمری ہی میں حزب اللہ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اس نے سنہ 2000ء میں لبنان سے اسرائیلی فوج کی واپسی سے قبل اسرائیل کے خلاف کئی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا تھا۔

مبصرین کے خیال میں حزب اللہ کی قیادت میں دشمن ملک کے جاسوس کا پکڑا جانا جماعت کے لیے ایک بڑ دھچکا ہے بالخصوص محمد شوربا جیسے قابل اعتماد اور زیرک کمانڈروں کا مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونا تنظیم کے لیے ایک بڑے صدمے کا باعث ہے۔ کیونکہ ماضی میں حزب اللہ کی قیادت محمد شوربا پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اس جیسے کارکن ناقابل تسخیر ہوتے ہیں، دشمن انہیں کبھی اپنے جال میں نہیں جکڑ سکتا ہے۔

لبنان کے ایک سرکردہ ذریعے نے خبر رساں ایجنسی’’رائیٹرز‘‘ کو بتایا کہ حزب اللہ کی صف اول میں اسرائیلی جاسوس کی موجودگی نہایت خطرناک اشارہ ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کی صفوں میں اپنے جاسوس بھرتی کرنے اور تنظیم کے حساب دائرے میں نقب لگانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ محمد شوربا نامی کمانڈر پرجاسوسی کے الزام سے تنظیم کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے حسن نصراللہ کے اس بیان پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا گیا تاہم فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل یعقوب عمیدرور کا کہنا ہے کہ حسن نصراللہ کے اعتراف نے خود ہی یہ ثابت کیا ہے کہ حزب اللہ میں نقب لگانے کا دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور اسرائیل ایک دوسرے کے دیرینہ دشمن ہیں۔ اگر اسرائیل حزب اللہ کی صف اول کی قیادت تک اپنے جاسوس پہنچا چکا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ تل ابیب حزب اللہ کی کارروائیاں ناکام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔