ردعمل کا خطرہ، حسنی مبارک کے بیٹوں کی رہائی موخر

رہائی آخری وقت پر روکی گئی: مصری جیل حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں طویل عرصے تک مطلق العنان حکمران رہنے والے حسنی مبارک کے بیٹوں علاء اور جمال مبارک کی رہائی موخر ہو گئی ہے۔ دونوں بیٹوں کے خلاف کرپشن کے مقدمے میں ری ٹرائل میں التواء کے بعد میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ وہ اب رہا ہو کر گھروں کو جا سکتے ہیں۔

واضح رہے ماضی کے مرد آہن حسنی مبارک کے ان بیٹوں کو ایک مصری عدالت نے پچھلے ہفتے ہی رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے مطابق یہ رہائی حسنی کے اقتدار سے الگ ہونے کی چوتھی سالگرہ کے دن پچیس جنوری سے پہلے ہونا تھی لیکن اس عدالتی فیصلے کے خلاف عوامی سطح پر ردعمل کا سامنا رہا، کیوں کہ عوام میں حسنی مبارک کے بیٹوں کی شہرت کرپشن کے حوالے سے ہے۔

اگرچہ کہ سرکاری میڈیا نے جمعہ کے روز اطلاع دی تھی کہ ان دونوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ تاہم دو دن بعد بھی ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی تو جیل حکام نے اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر بتایا کہ رہائی کے وقت سے ذرا پہلے رہا نہ کرنے کا حکم مل گیا تھا۔

سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رہائی نہ کرنے کی وجہ عوامی رد کا عمل خوف بنا ہے۔ ان دو نوں بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے کم از کم سولہ ملین ڈالر کی رقم کا غبن کیا ہے۔

دریں اثنا حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کی سالگرہ کے موقع پر کم سے کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اقتدار سے الگ ہونے کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر دونوں بیٹوں کی رہائی سے اور زیادہ عوامی احتجاج کا خطرہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں