حلب: القاعدہ گروپ کی شامی باغیوں کے خلاف کارروائی
شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ نے شمالی صوبے حلب میں مغرب کے حمایت یافتہ ایک مقامی باغی گروپ کے خلاف نئی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
النصرۃ محاذ نے حلب سے شامی باغیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے یہ نیا محاذ کھولا ہے۔اس سے پہلے اس کے جنگجوؤں نے شمال مغربی صوبے ادلب سے مغربی ممالک کے حمایت یافتہ باغیوں کے ایک اور گروپ کو مار بھگایا تھا۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق القاعدہ گروپ کے جنگجوؤں نے جمعرات کو حلب میں مغرب کی حمایت یافتہ حازم تحریک کے خلاف اس نئے حملے کا آغاز کیا تھا اور انھوں نے باغیوں کو شامی فوج کے رجمنٹ 111 کے بیس سے نکال باہر کیا ہے۔اس پر حازم کے جنگجوؤں نے شامی فوج کو شکست دینے کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔
آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ جمعہ کو لڑائی ادلب کے شمال تک بھی پھیل گئی ہے۔حازم گروپ نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے اور النصرۃ محاذ کے حملے کی تصدیق کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ '' نام نہاد النصرۃ محاذ نے صوبہ حلب کے مغرب میں حازم تحریک کے ٹھکانوں اور چیک پوائنٹس پر حملہ کیا ہے،ہم خون کے آخرے قطرے تک اپنا دفاع کریں گے''۔
حازم تحریک شام کے شمالی علاقوں میں موجود ہے۔گذشتہ سال اس کو اس کے مغربی پشتی بانوں نے دوسرے السلحہ کے علاوہ امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائل مہیا کیے تھے۔واضح رہے کہ نومبر میں النصرۃ کے جنگجوؤں نے ادلب سے مغرب کے حمایت یافتہ ایک اور گروپ شامی انقلابی محاذ کو لڑائی میں شکست دی تھی اور اس کے زیر قبضہ علاقے چھین لیے تھے۔