.

مصر:ڈاکٹر مرسی کے 22 حامیوں کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے بائیس حامیوں کو ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کے دوران ایک افسر کو قتل کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ان مدعاعلیہان نے 3 جولائی 2013ء کو قاہرہ کے نواح میں واقع قصبے کرادسہ میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا۔عین اسی روز مصر کی مسلح افواج کے سربراہ (اب صدر)عبدالفتاح السیسی نے ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت برطرف کردی تھی۔

مدعاعلیہان قاہرہ کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔اگر اعلیٰ عدالت نے ان کی سزاؤں کو برقرار رکھا تو پھر ان سے متعلق فیصلے کو توثیق کے لیے مفتی اعظم مصر کے پاس بھیجا جائے گی اور اگر انھوں نے بھی فیصلےکو برقرار رکھا تو پھر ان افراد کو پھانسی دے دی جائے گی۔

ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے مصری سکیورٹی فورسز نے ان کے حامیوں اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے اور اس کریک ڈاؤن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ہزار سے زیادہ سیاسی کارکنان ہلاک ہوچکے ہیں اور سیکڑوں کو تشدد کے مختلف واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات میں پھانسی یا عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

واضح رہے کہ 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے دو دھرنوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے دوران کم سے کم چودہ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد مشتعل افراد نے قاہرہ کے نواح میں واقع کرادسہ میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا تھا۔اس واقعے میں تیرہ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

فروری میں مصر کی ایک عدالت نے ان تیرہ پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں ایک سو تراسی افراد کو پھانسی کی سزا کا حکم دیا تھا۔ تب یورپی یونین نے مصر میں تھوک کے حساب سے پھانسی کی سزاؤں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ مصر نے اتنی زیادہ تعداد میں افراد کو سزائے موت سنا کر انسانی حقوق کے بین الاقوامی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایک سوتراسی مدعاعلیہان کے خلاف قتل کے ان مقدمات کا اجتماعی ٹرائل ہی انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی ہے۔اس لیے یورپی یونین دوٹوک الفاظ میں سزائے موت کی مخالفت کرتی ہے جو اس کے بہ قول ظالمانہ اور غیر انسانی ہے اور یہ سزا لوگوں کو جرائم کے ارتکاب سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔