مصر: سابق حکمراں جماعت کے صدر دفاترڈھانے کا فیصلہ

بعض حلقے عمارت کو مزاحمت کی علامت کے طور پر برقرار رکھنے کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی کابینہ نے سابق صدر حسنی مبارک کی جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع صدر دفاتر کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریائے نیل کے کنارے واقع این ڈی پی کے صدر دفاتر کی عمارت کو حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران نذر آتش کردیا گیا تھا۔اس کے بعد یہ عمارت خالی پڑی ہے۔چار سال قبل حسنی مبارک کی جماعت پر پابندی عاید کردی گئی تھی اور اس کے بعد آنے والی حکومتیں اس عمارت کو گرانے پر غور کرتی رہی ہیں۔

تاہم سابق مطلق العنان صدر کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک میں حصہ لینے والے بعض کارکنان کا کہنا ہے کہ سابق حکمراں جماعت کے ہیڈکوارٹرز کو عوامی مزاحمت کی یادگار کے طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔

این ڈی پی کو اپریل 2011ء میں عدالت کے ایک حکم کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔یہ جماعت حسنی مبارک کے پیش رو انورالسادات کے دورِ حکومت میں 1978ء میں قائم کی گئی تھی اور اس کے بعد وہ تین عشرے تک مصر کی سیاست میں بالادست قوت کا کردار ادا کرتی رہی تھی۔

گذشتہ ماہ مصر کے ساحلی سیاحتی مقام شرم الشیخ میں اقتصادی کانفرنس کے انعقاد کے بعد اس عمارت کے ایک حصے پر ایک بڑا بینر لگا دیا گیا ہے جس میں مصر میں سرمایہ کاری کے فروغ پر زوردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی عدالتوں نے حالیہ مہینوں کے دوران سابق صدر حسنی مبارک کے دور کی سرکاری شخصیات کو ماضی قریب میں سنائی گئی سزائیں یا تو معاف کردی ہیں یا پھر ان کے خلاف از سرنو مقدمات چلانے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب یہی عدالتیں آزاد خیال جمہوریت پسندوں اور اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو سیاسی مطالبات کے حق میں مظاہروں یا تشدد کے واقعات کے الزامات میں لمبی مدت کی قید سے لے کر موت تک سزائیں سنا رہی ہیں۔

اپریل کے اوائل میں معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف سرکاری خزانے میں خرد برد کرنے کے الزام میں قائم مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تھی۔انھیں گذشتہ سال مئی میں عدالت نے اس مقدمے میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے جنوری میں ان کو سنائی گئی سزا معطل کر دی تھی اور ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

گذشتہ سال نومبر میں عدالت نے حسنی مبارک کے خلاف قریباً ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں قائم مقدمے کو بھی ختم کردیا تھا اور انھیں اور ان کے چھے سابق سکیورٹی سربراہان کو بری کردیا تھا۔عدالتوں کے ان فیصلوں پر انسانی حقوق کے کارکنان نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ سابق ارباب اقتدار دوبارہ واپس آسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں