.

مواصلاتی آلات کا استعمال، اسرائیلی فوج اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار!

فوج میں اخلاقی جرائم میں اضافے پر حکام میں تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں مواصلاتی رابطے کے لیے استعمال ہونے والے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کا منفی اور مثبت استعمال تو عام ہے مگر مواصلاتی آلات کے استعمال نے اسرائیلی فوج کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کردیا ہے۔ موبائل فون اور دیگر آلات کا قبیح نوعیت کے سماجی جرائم میں استعمال فوج میں اس قدر عام ہوچکا ہے کہ اس نےاعلیٰ حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی فوج میں مواصلاتی آلات کا فوج میں استعمال جنگی اور حساس معلومات کے افشاء ہونے کے حوالے سے خطرناک تو ہے ہی مگراس نے خواتین فوجی اہلکاروں اور افسروں کو بھی اخلاقی دیوالیہ پن کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

فوج کے ترجمان عبرانی جریدے ’’باماھانی‘‘ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موآصلاتی آلات نے فوج میں جنسی جرائم میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ سنہ 2012ء کے بعد صرف تین سال کے عرصے میں فوج میں جنسی جرائم میں دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ فوجی اہلکار خواتین اہلکاروں کی متنازعہ تصاویر اور ویڈیوز اپنے موبائل فون میں محفوظ رکھنے اور انہیں کھلے عام سوشل میڈیا پر شیئر کرنے لگے ہیں جس سے فوج کے پیشہ وارانہ اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں فوجیوں کے زیر استعمال 35 فی صد موبائل فون کے ڈیٹا سے ایسی ممنوعہ و متنازعہ تصاویر اور ویڈیوز ملی ہیں جنہیں ایک سپاہی کے لیے اپنے پاس رکھنا فوج کے پیشہ وارانہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

جریدے نے مثال کے طورپر ایک فوجی اہلکار کی تصویر شائع کی ہے جس میں اسے ایک خاتون اہلکار کی تصویر پر اس کے چہرے پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ خاتون اہلکار کے جسم پر لباس نام کی کوئی چیز نہیں۔ صہیونی فوجی کی جانب سے خاتون سپاہی کی تصویر کے ساتھ ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ وہ اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرے۔ یہ فوجی اس خاتون کو دبائو میں لانے کے لیے اس کی تصاویرکو شائع کرنے کی بھی دھمکی دے چکا ہے۔

ایک دوسرے کیس میں ایک فوجی افسر پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے خواتین اہلکاروں کی غسل خانوں میں نہاتے ہوئے تصاویر اتاری تھیں جنہیں اپنے موبائل فون میں محفوظ کر رکھا تھا۔

صہیونی فوجیوں پر الزام ہے کہ وہ خواتین اہلکاروں کی لی گئی متنازعہ تصاویر ’وٹس ایپ‘ اور ’فیس بک' پر براہ راست پوسٹ کردیتے ہیں جنہیں’’مفاد عامہ‘‘ کے لیے بڑے پیمانے پر شیئر کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کی ملٹری مانٹیرنگ ڈیسک کی سربراہ بریگیڈیئر جنرل سیما فاکنین جیل کا کہنا ہے کہ پچھلے سال جولائی اور اگست میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران فوجیوں نے ’وٹس ایپ‘ کے ذریعے سے بڑے پیمانے پر پیغامات کا تبادلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں فوج کی اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی سے متعلق حساس معلومات اور اجلاسوں کی کارروائیوں تک دشمن کی رسائی کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

مسز جیل کا کہنا ہے کہ ’اگر میں یہ کہوں کہ واٹس ایپ جیسی ایپلیکیشنز فوج کے مستقبل میں ایک بڑا مسئلہ پیدا کرسکتی ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ مواصلاتی آلات کے اندھا دھند استعمال کے خطرات کے پیش نظر میں یہ ضرورکہوں گی کہ سماجی رابطے کے استعمال کے دوران اتنی احتیاط کا ضرور خیال رکھا جائے تاکہ کوئی دشمن اہم سرکاری خفیہ دستاویزات اور معلومات تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔"

اسرائیلی میڈیا کے مطابق پچھلے سال غزہ کی پٹی میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام بھی ’’وٹس اایپ‘‘ پر شائع کیے گئے تھے جس کے بعد ایک فوجی اہلکار کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج ’فیس بک‘ پر نسل پرستانہ نعروں کی تشہیر کے مرتکب فوجیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کرچکی ہے۔ اسی طرح کئی خواتین کے خلاف بھی انضباطی کارروائی عمل میں لائی گئی جنہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اپنی نیم برہنہ تصاویر پوسٹ کر رکھی تھیں۔

خاتون فوجی افسر فاکنین جیل کا کہنا ہے ملٹری مانیٹرنگ کا شعبہ فوجی قانون اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کررہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کا موجودہ نظام ناکافی ہے اور فوج میں سماجی جرائم کی روک تھام کے لیے مانیٹرنگ سسٹم کو کئی گنا بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔