مصر : اخوانیوں کوسزائیں سنانے والے جج کے مکان پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جنگجوؤں نے اسلام پسندوں کو سزائے موت سنانے والے جج کے گھر کے باہر پے در پے چھوٹے بموں کے دھماکے کیے ہیں جن کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوگئے ہیں اور عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق جج معتز خفاجی حملے کے وقت اپنے اپارٹمنٹ کی پہلی منزل ہی میں موجود تھے۔تاہم وہ حملے محفوظ رہے ہیں۔ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ عمارت کی سکیورٹی پر مامور محافظوں نے ایک دہشت گرد کو پکڑ لیا ہے۔دہشت گرد ایک ٹیکسی میں سوار ہو کر آئے تھے اور انھوں نے وہاں بم نصب کردیے تھے۔ دوسرے مشتبہ حملہ آور وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔انھوں نے ریموٹ کنٹرول سے بموں کو اڑایا تھا۔

اس افسر کے مطابق بم دھماکوں سے جج کے مکان کے بیرونی حصے کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے باہر کھڑی تین کاروں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔چار میں سے ایک زخمی کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔باقی تین کو معمولی زخم آئے ہیں۔

ان جج صاحب ہی نے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع کو عمر قید کی سزائی سنائی تھی۔ان کے علاوہ انھوں نے قاہرہ کے نواح میں واقع قصبے کرادسہ میں ایک پولیس جنرل کے قتل کے مقدمے میں اگست 2014ء میں بارہ افراد کو قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔

جنگجوؤں نے اس سے پہلے بھی قاہرہ ،اسکندریہ اور دوسرے شہروں میں چھوٹے بموں کے دھماکے کیے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ مصری فورسز کے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں یہ حملے کررہے ہیں۔

انھوں نے مصر کے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف محدود پیمانے پر جنگ برپا کررکھی ہے اور ان کے حملوں میں اب تک سیکڑوں فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت نے ان کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے اور اس میں اب تک سیکڑوں جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں