.

مصری فورسز پر حملوں میں ملوّث 6 مجرموں کو پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام نے چھے افراد کو فوجیوں کے قتل کے جُرم میں تختہ دار پر لٹکا دیا ہے اور ان کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کرنے کی اپیلوں کو مسترد کردیا ہے۔

ان افراد پر جولائی 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں عدالت نے قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔مارچ میں مصر کی ایک فوجی عدالت نے ان کی پھانسی کی سزا بحال رکھی تھی اور ان کی اپیلیں مسترد کردی تھی۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ وہ مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں برسر پیکار جنگجو گروپ انصار بیت المقدس سے تعلق رکھتے تھے۔اس گروپ نے گذشتہ سال کے آخر میں عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر دولت اسلامیہ (داعش) سے وابستگی اور اس کے خلیفہ کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔

ان مجرموں میں سے بعض کو پولیس اور فوجیوں نے مارچ 2014ء میں قاہرہ کے شمال میں واقع ان کے ایک محفوظ ٹھکانے سے چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔

اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران مسلح جھڑپ میں فوج کے بارودی مواد کی جانچ کے دو ماہر اور چھے جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے پھانسی کی سزا پر عمل درآمد موخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے دو مدعا علیہان تو مذکورہ واقعے کے رونما ہونے سے قبل ہی زیر حراست تھے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان افراد کے خلاف بالکل غیر منصفانہ انداز میں مقدمہ چلایا گیا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے ہیں کیونکہ اس ٹرائل کا واحد گواہ خفیہ پولیس کا ایک افسر تھا۔