.

عراق: 16 تاجروں کا داعش کے ہاتھوں سفاکانہ قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں نے عراق کے شمالی شہر بیجی سے حکومت کے کنٹرول والے شہر حدیثہ کی جانب غلہ لے جانے کی پاداش میں سولہ تاجروں کو سفاکانہ انداز میں قتل کردیا ہے۔

حدیثہ کے مئیر عبدالحکیم نے اتوار کو اپنے شہر سے تعلق رکھنے والے ان تاجروں کے قتل کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ مقتولین بیجی سے خوراک کی اشیاء سبزیاں وغیرہ لا رہے تھے۔

مئیر نے بتایا ہے کہ ان تاجروں کو ایک چیک پوائنٹ پر روکا گیا تھا اور پھر انھیں اغوا کر لیا گیا۔اس کے بعد داعش کے جنگجوؤں نے انھیں فائرنگ کرکے یا گلے کاٹ کر ہلاک کردیا۔انھوں نے مزید بتایا کہ حدیثہ کے مکینوں کو ان کی لاشیں ایک شاہراہ سے ملی تھیں اور وہ انھیں واپس لے آئے ہیں۔پولیس کے ایک لیفیٹننٹ کرنل نے ان کے قتل کی تصدیق کی ہے۔دوسرے ذرائع کے مطابق اتوار کو ان کی تدفین کردی گئی ہے۔

حدیثہ سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی جنگجو معاذ الجقیفی نے بتایا ہے کہ ایک مقتول کی لاش کے نزدیک سے کاغذ کا ایک ٹکڑا ملا ہے اور اس پر لکھا ہے کہ حدیثہ کے نزدیک حال ہی میں جہادی جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے انتقام میں ان تاجروں کو موت سے ہم کنار کیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے خاسفہ کے علاقے میں جھڑپوں کے دوران داعش کے تئیس جنگجو مارے گئے تھے۔ان میں دو فرانسیسی شہری بھی شامل تھے،انھوں نے بارود سے بھرے ٹرکوں سے خود کش دھماکے کیے تھے۔

بیجی شہر دارالحکومت بغداد سے دو سو کلومیٹر شمال میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع ہے اور اس پر داعش کا کنٹرول ہے۔حدیثہ وہاں سے ایک سو تیس کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور صوبہ الانبار میں واقع اس شہر پر ابھی تک حکومت کا کنٹرول برقرار ہے۔

حدیثہ حکومت کی عمل داری والے ملک کے دوسرے علاقوں سے کٹ کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں اشیائے صرف کی کم یابی ہے اور ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ آٹے کے پچاس کلو وزنی تھیلے کی قیمت نو سو ڈالرز تک پہنچ چکی ہے جبکہ دارالحکومت بغداد میں آٹے کی اس تھیلے کی قیمت صرف بیس سے تیس ڈالرز کے درمیان ہے۔

داعش نے اپنے زیر قبضہ علاقوں اور حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں مقامی لوگوں کو بعض تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے لیکن تجارتی مال لے جانے والے تاجروں کو محصول کی شکل میں فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔