داعش نے لونڈیاں بنائی گئی 42 یزیدی عورتیں فروخت کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے عراق کے یزیدی فرقے سے لونڈیاں بنائی گئی 42 خواتین کو جمعرات کے روز شام کے مشرقی صوبے دیرالزور کے المیادین شہر میں نیلامی کے ذریعے فروخت کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے ولے ادارے" آبزرویٹری برائے انسانی حقوق" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے یزیدی فرقے کی یرغمال بنائی گئی خواتین کو المیادین کے ایک مقامی ہیڈ کوارٹر میں فروخت کیا۔ گذشتہ روز مجموعی طور پر 42 خواتین کو بیچا گیا اور ان کے بدلے میں 500 سے 2000 ڈالر تک فی کس رقم وصول کی گئی۔ فروخت کی گئی خواتین کے کم سن بچوں کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ کہاں ہیں۔

خیال رہے کہ داعش نے پچھلےسال عراق کے شمالی علاقے جبل سنجار پر حملے کے وقت ہزاروں کی تعداد میں یزیدی فرقے کے خواتین اور مردوں کو یرغمال بنانے کے بعد انہیں لونڈیاں اور غلاموں کا درجہ دے دیا تھا۔ بعد ازاں انھیں جنگجوئوں میں بانٹنے کے ساتھ ساتھ فروخت بھی کیا جاتا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 40 یزیدی خواتین کو چند روز قبل عراق سے شام میں المیادین شہر منتقل کیا گیا تھا۔ شام منتقلی کے وقت کئی خواتین کے ساتھ ان کے شیرخوار بچے بھی لائے گئے تھے۔

پچھلے سال اگست میں داعش نے عراق سے یرغمال بنائی گئی 300 یزیدی خواتین کو اپنے جنگجوؤں میں مال غنیمت قرار دے کر تقسیم کیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجو اپنے طور پر بھی مال غنیمت میں ملنے والی خواتین کو کم سے کم ایک ہزار ڈالر کے عوض فروخت کرتے رہے ہیں۔ اس طرح انفرادی طور پر اب تک 27 خواتین کو فروخت کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں